’طالبان سے مذاکرات کی کوشش ایک دہائی قبل کرنی چاہیے تھی‘

Image caption ’سنہ 2014 میں اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج کو فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہو گی‘

برطانیہ کے جنرل نِک کارٹر نے کہا ہے کہ مغرب کو طالبان کے ساتھ ایک دہائی قبل ہی مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جب ان کی حکومت افغانستان میں ختم کی تھی۔

نیٹو کی اتحادی فوج کے نائب کمانڈر جنرل نِک کارٹر نے کہا کہ اس وقت سیاسی حل نکالنا آسان تھا کیونکہ طالبان کو اُس وقت شکست کا سامنا تھا۔

یہ بات انہوں نے برطانوی اخبار گارڈیئن کو ایک انٹرویو میں کہی۔ برطانوی جنرل کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

جنرل کارٹر نے مزید کہا کہ سنہ 2014 میں اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج کو فوجی اور مالی امداد کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج کے انخلاء کے بعد کابل حکومت کو صرف چند ہی علاقوں میں جزوی کنٹرول حاصل ہو گا۔

یاد رہے کہ ایک دہائی قبل جرمنی کے شہر بون میں افغانستان کے مستقبل پر ہونے والی ایک اہم کانفرنس میں سابق طالبان حکومت کے اراکین شامل نہیں تھے۔

نیٹو کی اتحادی فوج کے نائب کمانڈر نے کہا ’سنہ 2002 میں طالبان کو شکست کا سامنا تھا۔ میرے خیال میں اس وقت ہمیں یہ سوچنا چاہیے تھا کہ تمام افغان فریقین کو میز پر لاتے اور مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتے۔‘

جنرل کارٹر نے مزید کہا ’پچھلی ایک دہائی سے ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے وہ سیاسی ہیں اور سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت ہی سے نکلتا ہے۔‘

انٹرویو میں جنرل کارٹر نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ نیٹو کی جانب سے ملک کی سکیورٹی افغان فوج کے حوالے کرنے کے بعد طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان پولیس اور فوج کے ادارے اتنے مضبوط بنا دیے ہیں کہ وہ اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں سکیورٹی کی یقینی بنا سکیں اور ملک میں اتحادی فوج کے انخلاء کے بعد استحکام کو یقینی بنا سکیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ افغان پولیس اور فوج کو آئندہ کئی سالوں تک مدد درکار ہو گی کیونکہ یہ ادارے بہت جلد بازی میں بنائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں