امریکہ پچاس کروڑ جرمن فون کی نگرانی کرتا ہے

Image caption این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈوارڈ سنوڈن کے ذریعہ مبینہ امریکی نگرانی کے پروگرام کے انکشاف نے امریکہ اور دوسرے ممالک میں پرائیویسی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر سیاسی مباحثے کا آغاز کر دیا ہے

جرمن میگزین در شپیگل نے خفیہ امریکی دستاویزات کے حوالے سےخبر دی ہے کہ امریکہ ہر مہینے جرمنی کے پچاس کروڑ فون کال، ای میلز اور دوسرے تحریری پیغامات کی نگرانی کرتا ہے۔

در شپیگل نے کہا ہے کہ ان کے نمائندوں نے امریکہ کی نیشنل سیکوریٹی ایجنسی (این ایس اے) کی دستاویزات دیکھی ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس میگزین نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے سب سے بڑے یورپی اتحادی کو اپنے ہدف کے طور پر چین کے درجے میں رکھا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈوارڈ سنوڈن کے ذریعہ امریکی نگرانی کے پروگرام کے انکشاف نے امریکہ اور دوسرے ممالک میں پرائیویسی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر سیاسی مباحثے کا آغاز کر دیا ہے۔

جرمن میگزین کی سنیچر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایس اے نے یورپی یونین کے دفاتر کی بھی نگرانی کی ہے جس سے ای یو کے منصوبہ سازوں کے درمیان غصہ پایا جاتا ہے اور ان میں سے بعض واشنگٹن اور ای یو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت کو ختم دینے کی بات بھی کر رہے ہیں۔

Image caption مارٹن شولز نے امریکہ سے اس بارے میں مکمل وضاحت طلب کی ہے۔

دریں اثناء یورپی پارلیمان کے سربراہ نے امریکہ سے اپنے اہم دفاتر کی جاسوسی پر ’مکمل وضاحت‘ طلب کی ہے۔

مارٹن شولز نے کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ اس سے ای یو اور امریکہ کے رشتے پر ’سنگین اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

دیر شپیگل کے مطابق لگزمبرگ کے وزیر خارجہ ژاں اسیلبورن نے کہا ہے کہ ’اگر یہ خبریں درست ہیں تو یہ گھنونی ہیں۔ امریکہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنی خفیہ اجینسیوں کی نگرانی کرے بجائے اپنے اتحادیوں کی۔‘

بہر حال امریکہ نے ابھی تک در شپیگل میں شائع رپورٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دیر شپیگل کے مطابق امریکہ نے اپنے اتحادی جرمنی کو ’تیسرے درجے‘ کے پارٹنر کے زمرے میں رکھا ہے اور یورپی ممالک میں سب سے زیادہ اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ میگزین کے مطابق یہ نگرانی چین، عراق اور سعودی عرب کے حد تک ہے۔

در شپیگل میں این ایس اے کی دستاویزات کا ایک اقتباس شائع کیا گیا ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: ’ہم اپنے تیسرے درجے کے زیادہ تر بیرونی شراکت داروں کے سگنل پر حملہ کر سکتے ہیں اور ہم ایسا کرتے بھی ہیں۔‘

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این ایس کی دستاویزات میں فون کالز، پیغامات، ای میلز اور انٹرنیٹ چیٹ کی تفصیلات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایک عام دن میں جرمنی کے دوکروڑ فون کنکشن اور ایک کروڑ انٹرنیٹ ڈیٹا سیٹ کی این ایس اے کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور مشغول ترین دنوں میں فون کالز کنکشن کی تعداد چھ کروڑ تک چلی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے جرمنی کے فون کالز کی نگرانی کی بات کہی تھی لیکن ان کے حوالے سے پہلے ان کی تعداد کا علم نہیں تھا۔

بہر حال انٹرنیٹ اور فون نگرانی کے خفیہ امریکی پروگرام ’پرزم‘ اور اس کے برطانوی متبادل ’ٹمپورا‘ کی خبروں پر جرمنی میں غصہ ہے۔

واضح رہے کہ جرمن باشندے اپنی حکومت کے ذریعہ کی جانے والی نگرانی کے خلاف بھی کافی حساس واقع ہوئے ہیں جن کے دلوں میں سابقہ کمیونسٹ ملک مشرقی جرمنی میں حکومت کی خفیہ پولیس سٹاسی اور نازی ہٹلر کے دور کے گیستاپوکی یاد باقی ہے۔

در شپیگل کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ فرانس میں بھی روزارنہ بیس لاکھ کنکشن کی روزانہ نگرانی کرتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ صرف کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ ان جاسوسی حملوں سے واضح طور پر محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں