سنوڈن کی درخواست مسترد کرنے کا ’شائستہ‘ مطالبہ

Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ اس وقت ایڈورڈ سنوڈن ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں

امریکی نائب صدر جؤ بائیڈن نے ایکواڈور کے صدر سے امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

دونوں ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جؤ بائیڈن کی صدر رافائل کوئریا سے جمعے کو بات ہوئی۔

صدر رافائل کوئریا کے مطابق امریکی نائب صدر نے اُن سے ایڈورڈ سنوڈن کی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے کہا ہے ۔تاہم امریکی ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا۔

ایک تازہ ترین پیش رفت میں ایک جرمن میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ سنوڈن ایک ایسا دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی حکومت نے یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی۔

سپیگل میگزین کا کہنا ہے کہ امریکی قومی سکیورٹی ایجنسی کے ستمبر دو ہزار دس کے ایک خفیہ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایجنسی نے کس طرح یورپی یونین کے دفاتر کی جاسوسی کی۔ اس کے علاوہ دستاویز یہ بھی بتاتا ہے کہ حکام نے واشنگٹن میں اور اقوام متحدہ کی عمارت میں یوپی یونین کے دفاتر میں اندورنی کمپیوٹر نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی۔

میگزین کا کہنا ہے کہ دستاویز میں یورپی یونین کو واضح طور پر ہدف قرار دیا گیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن روس میں ہی ہیں یا پھر کسی اور ملک کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس وقت وہ ماسکو کے ہوائی اڈے پر ہیں جہاں وہ ہانگ کانگ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل آئے تھے۔ دیگر ممالک کے حوالے سے ایکواڈور اور آئس لینڈ کے نام سامنے آئے ہیں۔

پیر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اگر روس اور چین نے ایڈورڈ سنوڈن کی مدد کی تو یہ’مایوس کن‘ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بھارت کے دورے کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے اقدام کے ’نتائج‘ ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے جاسوسی کے خفیہ پروگرام کی معلومات ذرائع ابلاغ کو بتانے پر ایڈرورڈ سنورڈن امریکی حکومت کو مطلوب ہیں۔ انھوں نے امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں کچھ عرصے تک ملازمت کی تھی۔امریکی وزارت دفاع کی جانب سے ایڈورڈ سنوڈن پر جو فردِ جرم عائد کیا گیا اُس کے تحت الزامات میں جاسوسی اور حکومت املاک کی چوری شامل ہے۔ ان الزامات کے تحت انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے

ایکواڈورنے کہا ہے کہ وہ سنوڈن کی درخواست پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم اُس وقت جب وہ خود ملک موجود ہوں گے۔

سنیچر کو صدر رافائل کوئریا نے کہا کہ امریکی نائب صدر نے سنوڈن کی درخواست مسترد کرنے کا ایک ’نرم مطالبہ‘ کیا ہے۔

صدر کہا کہ میں نے اُن سے کہا کہ ’آپ کے فون کرنے کے لیے شکریہ۔ ہم امریکہ کی عزت کرتے ہیں۔ یہ صورتحال ہم نے نہیں پیدا کی۔ یہ خیال نہ کریں کہ ہم امریکہ کے خلاف ہیں جیسا کہ ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہے۔‘

’اگر ایڈورڈ سنوڈن ہمارے ملک پہنچے تو سب سے پہلے ہم امریکہ سے مشاورت کریں گے۔‘

ایکواڈور کے صدر بائیں بازو کی جانب رجحان رکھنے والے ماہرِ اقتصادیات ہیں جنہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔

دوسری جانب ایڈورڈ سنوڈن کے والد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ ان کا بیٹا جاسوسی کے فردِ جرم کا سامنا کرنے امریکہ ضرور آئے گا۔

ایک امریکی ٹی وی سٹیشن کو انٹرویو میں لون سنوڈن نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ان کا بیٹا رضا کارارنہ طور پر امریکہ واپس آئیں گے اگر ان سے یہ وعدہ کیا جائے گا مقدمے سے قبل ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

لون سنوڈن نے کہا کہ ان کو تشویش ہے کہ ان کے بیٹے کو کچھ لوگ استعمال کر رہے ہیں بشمول وکی لیکس کے۔

یاد رہے کہ تیس سالہ ایڈورڈ سنورڈن امریکی ریاست کیلیفورنیا کے رہنے والے تھے۔

اسی بارے میں