مصر: حزب اختلاف کا صدر مرسی کو الٹی میٹم

Image caption صدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کڑوڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں

مصر میں صدر مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور حزب اختلاف نے صدر کو منگل تک مستعفی ہونے کی مہلت دی ہے۔

حزب اختلاف کی تحریک تمرود یعنی باغی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اگر صدر مرسی اقتدار سے الگ نہیں ہوئے اور انتخابات منعقد نہ ہونے دیے تو ان کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔

صدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کروڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں۔

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں ہزاروں مظاہرین صدر مرسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں مرکزی اہمیت والے تحریر سکوائر میں سنیچر کی شب سے ہزاروں مظاہرین اکھٹا ہونا شروع ہوئے۔

اتوار کو صدر مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہوا۔مظاہرین صدر محمد مرسی اور ان کی حلیف اخوان المسلمین کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور صدر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تحریر سکوائر میں ٹینٹوں اور جھنڈوں کی مدد سے ایک مرکزی دفتر بنایا گیا ہے جہاں مظاہرین صدر مرسی کے دفتر کا جانب مارچ کرنے کا ارادہ ہے۔

صدارتی ترجمان نے مظاہرین کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ جمہوری نظام کا احترام کریں۔ گزشتہ سال ہونے والے انتخاب میں صدر مرسی کی کامیابی کو شفاف قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب صدر کے حامیوں نے قاہرہ کے مضافاتی علاقے نصر سٹی میں صدر کے حق میں ایک ریلی نکالی۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مدیر جیرمی بوئن کا قاہرہ سے کہنا تھا کہ صدر مرسی کے مخالفین کی ایک واضح کامیابی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مظاہروں کے لیے جمع کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے کہ ایک وہ ایسی سیاسی حکمتِ عملی تیار کر پائیں گے جو اخوان المسلمین کے مقابلے کی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اس ساری معاملے میں فوج کیا کرئے گی۔

Image caption حالیہ مظاہروں میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں

یاد رہے کہ اسی حوالے سے مصر کی فوج نے خبردار کیا تھا کہ وہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مصر کو ایک ’بے قابو تنازع‘ کا شکار نہیں ہونے دی گے۔ فوج کے سربراہ جنرل عبد الفتح الثیثی جو کہ ملک کے وزیرِ دفاع بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ فوج مصر کو ایک ’تاریک سرنگ‘ میں گرنے سے روکے گی۔

تحریر سکوائر سے بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کہتے ہیں کہ’مظاہرے میں شامل بہت سے افراد کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صدر مرسی نے انھیں دھوکہ دیا۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ صدر مرسی کو مصری عوام کو متحد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی حالانکہ انھوں نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر کا اندازِ حکومت صرف اپنی پارٹی کے مفادات کو سامنے رکھتا ہے۔‘

’دوسری جانب صدر مرسی کا اس بات پر اصرار ہے کہ انھوں نے حزبِ مخالف کے گروہوں کو مشاورت کی دعوت تو دی ہے مگر انھوں نے تعاون نہیں کیا۔ صدر کے حامی کہتے ہیں کہ مصر میں جو بھی بڑے بڑے مسائل ہوں، استحکام کے لیے صدر مرسی کو اپنی مدت مکمل کرنی چاہیے۔‘

حالیہ مظاہروں میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک ایک امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اپنی صدارت کے ایک سال کے موقع پر صدر مرسی نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بے اطمینانی کے اظہار سے ’مصر کے مفلوج ہونے کا خطرہ‘ ہے۔

مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں