جاسوسی تنازعہ:امریکہ ای یو تجارتی معاہدے کو خطرہ

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند، جرمن چانسلر ایجنلا مرکل
Image caption جب تک جاسوسی کے عمل کو فوراً بند کرنے کی ضمانت نہیں ملتی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو سکتی: فرانسیسی صدر

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یورپی سفارتخانوں کی جاسوسی کے الزامات سے ایک بڑے تجارتی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ جب تک جاسوسی کے اس عمل کو فوراً بند کرنے کی ضمانت نہیں دی جاتی تب تک اس معاہدے پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔

امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے پر بات چیت 8 جولائی سے شروع ہونے والی ہے اور اب تک کا سب سے سے بڑا معاہدہ ہوگا۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے یورپی یونین میں اپنے اتحادی ممالک کی جاسوسی کے الزامات پر ردِ عمل میں کہا تھا کہ بین الااقوامی تعلقات میں ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے‘۔

سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانی والی معلومات کے مطابق امریکہ یورپی یونین کے دفاتر کے علاوہ جرمنی، فرانس کے لاکھوں ٹیلفون کی بھی نگرانی کرتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسیاں واشنٹگن اور نیویارک میں واقع یورپی یونین کے دفاتر خاص طور پر فرانس اٹلی اور یونان کے دفاتر کی خفیہ نگرانی کی اطلاعات پر یورپی یونین کے بعض رہنماؤں نے سِخت ردعمل کا مظاہرہ کیا۔

یورپی یونین کے ایک اعٰلی افسر نے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے کے بعد امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

یہ الزام گزشتہ روز جرمنی کے ایک رسالے میں شائع ہونے والی خبر میں سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ایسے دستاویزی شواہد فراہم کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ یورپی یونین کے دفاتر کی خفیہ نگرانی کرتا رہا ہے۔

خیال ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن اس وقت ماسکو ایئرپورٹ پر ہیں اور امریکی حکام سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔

فرانس اور جرمنی کی گرین پارٹیوں نے اپنی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ مسٹر سنوڈن کو پناہ کی پیشکش کریں۔

جرمنی کی گرین پارٹی کے رہنما جیوگن ٹریٹن کا کہنا ہے کہ سنوڈن جیسے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہئیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سنوڈن کو یورپ میں محفوظ پناہ گاہ ملنی چاہئیے کیونکہ انہوں نے یورپی شہریوں اور کمپنیوں پر ہونے والے حملے کا راز فاش کر کے ہم پر احسان کیا ہے‘۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے برونائی میں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں ان خبروں پر تشویش ظاہر کی۔

جان کیری نے کہا ہے کہ انہیں اخبارات میں چھپی ان خبروں کی حقیقت تو نہیں معلوم۔ تاہم دنیا کا ہر ملک اپنی قومی سلامتی کے لیے کئی طرح کے اقدامات کرتا ہے جن میں کئی طرح کی سرگرمیاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں