بگرام جیل: تین قیدی پاکستان کے حوالے

بگرام جیل
Image caption بگرام ائربیس میں واقع حراستی مرکز کا کنٹرول امریکی فورسز کے پاس تھا تاہم اب اٹھانوے فیصد کنٹرول افغان حکومت کے پاس ہے۔

افغانستان میں بگرام ائربیس پر واقع حراستی مرکز سے تین قیدیوں کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

تینوں قیدیوں کو مزید پوچھ گچھ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دریں اثناء وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے ان تین قیدیوں کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ان تینوں افراد کو سنہ دو ہزار سات میں افغانستان میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر امریکہ اور بین الاقوامی اتحادی افواج یا ایساف فورسز کے ارکان کی خفیہ نگرانی کرنے اور اس کی تفصیلات القاعدہ اور اس کی دیگر اہم خیال تنظیموں کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

افغانستان:پچیس سے زائد پاکستانی امریکی قید میں

سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان میں قیام میں دوران ان افراد کی نشاندہی پر القاعدہ اور دیگر کالعدم تنظیموں نے امریکی اور ایساف فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں جس سے سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان میں موجود ان غیر ملکی فورسز کو قابل ذکر جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

چھ سال تک ان پاکستانیوں کو بگرام ائربیس پر رکھا گیا جہاں پر امریکی سکیورٹی فورسز نے اُن سے تفتیش کی۔ بعدازاں اُنہیں وہاں سے رہا کر کے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد میں محمد نذیر، بشارت اور عبداللہ شامل ہیں اور ان میں سے دو کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں جبکہ ایک کا تعلق صوابی سے ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کا تعلق کالعدم تنظیم جیش محمد سے ہے اور ان افراد سے اس تنظیم یا اس کی ہم خیال تنظیموں کے ارکان کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جن کے ساتھ ان کے پاکستان میں رابطے رہے ہیں۔

بگرام ائربیس میں واقع حراستی مرکز کا کنٹرول امریکی فورسز کے پاس تھا تاہم اب اٹھانوے فیصد کنٹرول افغان حکومت کے پاس ہے تاہم وہاں پر قید غیر ملکی افراد تک ان افغان اہلکاروں کو رسائی نہیں دی گئی۔ سنہ دو ہزار چودہ میں علاقے سے امریکی اور دیگر فورسز کے انخلاء کے بعد اس کا مکمل کنٹرول افغان حکام کو مل جائے گا۔

یاد رہے کہ افغانستان کے دارلحکومت کابل میں پلِ چرخی جیل ہے جو کہ افغانستان میں سب سے بڑی جیل ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس جیل میں اب بھی 70 سے زائد پاکستانی قید ہیں۔ اس جیل سے متعدد پاکستانیوں کو رہا کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

ان میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جن کے پاس نامکمل سفری دستاویزات تھیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے ان تین قیدیوں کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں