متحدہ عرب امارات: چونسٹھ افراد کو بغاوت کی سزا

Image caption عدالت کے فیصلے کا اعلان ریاستی ٹی وی چینل کے ذریعے کیا گیا

اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں چونسٹھ افراد کو حکومت گرانے کی کوشش کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسی سلسلے میں لگ بھگ پچیس افراد کو بری بھی کیا گیا ہے۔ مجرم قرار پائے جانے والے بیشتر افراد کو کم از کم سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں چورانوے افراد پر حکومت سے بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

اس مقدمے کو انسانی حقوق کے کارکنان نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکام ملزمان پر تشدد کے قابلِ اعتبار الزامات کی جانچ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے وفاقی عدالتِ عظمیٰ نے چورانوے میں سے چھپن ملزمان کو سات سے دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ ملک میں غیر موجود آٹھ ملزمان کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ عدالت کے باہر سڑک کو بند کر دیا گیا تھا اور فیصلے سے پہلے صحافیوں کو عدالت سے دور رکھا گیا۔

عدالت کے فیصلے کا اعلان ریاستی ٹی وی چینل کے ذریعے کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مجرمان کا تعلق الاصلاح نامی اماراتی گروہ سے ہے جس کے مصری سیاسی جماعت اخوان المسلمین سے روابط ہیں۔

ان مجرمان پر ایک ایسی تنظیم بنانے کا الزام تھا جس کا مقصد ’متحدہ عرب امارات میں بنیادی حکومتی نظام کو گرانے اور اقتدار حاصل کرنا تھا۔‘

اس طویل مقدمے کی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔

مارچ میں ان تنظیموں کے ایک گروہ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت میں ’منصفانہ مقدمات کی یقین دہانیوں کی بے باک خلاف ورزیاں کی گئیں‘۔

اسی بارے میں