مصر: صدر مرسی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا

مصر
Image caption ایک فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مرسی کی پوزیشن ہر گزرتے مینیٹ کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے ملک میں جاری کشیدگی کو بدھ تک ختم کرنے کے لیے فوج کی طرف سےملنے والی الٹی میٹم کو مسترد کر دیا ہے۔

منگل کو رات گئے قوم سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں صدر مرسی نے کہا کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کریں گے۔

مرسی نے ملک کے آئینی صدر ہونے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سے ڈیکٹیشن نہیں لیں گے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطیاں ہوئیں تاہم انھوں نے قوم سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

دوسری جانب مصر میں صدر مرسی کی حمایت میں نکالی جانے والی ایک ریلی کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔

مصر کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں بدھ کو صدر مرسی کی حمایت میں نکالی جانے والی ایک ریلی میں کم سے کم 16 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔

اپنی پینتالیس منٹ کی تقریر میں صدر مرسی نے کہا کہ وہ لوگوں کے پْرامن احتجاج کی عزت کرتے ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ وہ اپنے ’آئینی حق‘ کا دفاع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ جب تشدد اور ہنگامہ آرائی ہو تو مجھے قدم اٹھانا پڑے گا‘۔

صدر مرسی نے ملک جاری کشیدگی کا الزام بدعنوانی اور سابق صدر حسنی مبارک کے دورِ حکومت کی باقیات پر لگاتے ہوئے مظاہرین کو قانون کی پاسداری کرنے کو کہا۔

انھوں نے مفاہمت اور میڈیا کے لیے ضابطۂ اخلاق بنانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی سطح پر مذاکرات کے لیے تمام گروپوں اور شخصیات سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ مصری فوج نے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی۔

اس سے پہلے مصر کی فوج نے ملک کے مستقبل کے لیے تیار کر دہ منصوبے کو لیک کیا تھا جس میں ملک کے موجودہ پارلیمان کو تحلیل کرنے اور ملک میں نئے صدارتی انتخابات کرانے کی بات کی گئی ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والے معلومات کے مطابق فوجی منصوبے کے تحت ملک کے نئے آئین کو بھی معطل کر دیا جائے گا۔

ایک فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ صدر مرسی کی پوزیشن ہر گزرتے منٹ کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

ذرائع نے عندیہ دیا تھا کہ منصوبے کے تحت نئے انتخابات سے پہلے صدر مرسی کی جگہ سیاسی جماعتوں کے سویلین نمائندوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک کونسل اقتدار سنبھالے گی۔

ادھر ملک میں جاری مظاہروں کے دوران صدر کے حامی اور مخالفین کے درمیان دارالحکومت قاہرہ میں جھڑپوں کے دوران سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ حزب اختلاف کی تحریک تمرد یعنی’باغی‘ نے پیر کو الٹی میٹم جاری کیا تھا کہ اگر صدر مرسی مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام پانچ بجے تک اقتدار سے الگ نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔

اس کے بعد مصری فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی۔

صدر مرسی نے فوج کے بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا اس سے ابہام پیدا ہوگا۔

صدر محمد مرسی نے ملک کے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفاتح السیسی سے دن دونوں میں مسلسل دوسری ملاقات کی ہے۔ منگل کو ہونے والی دوسری ملاقات میں وزیراعظم ہاشم قندیل بھی شامل تھے تاہم اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ادھر پیر کو حکومت کے چھ وزراء کے مستعفی ہونے سے جن میں وزیرِ خارجہ محمد کامل امر بھی شامل ہیں صدر مرسی پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدارتی اور کیبنٹ کے ترجمانوں نے بھی منگل کو اپنے عہدوں سے استفیٰ دیا ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے صدر مرسی سے اپیل کی کہ وہ اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کریں۔

مصر کی عدالتِ عالیہ نے بھی صدر مرسی کی جانب سے مقرر کیے جانے والے پراسیکیوٹر جنرل کو برخاست کرنے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے۔

گذشتہ چند روز میں قاہرہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

صدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کروڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں۔

مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراؤٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں