مرسی کا کیا ہو گا، فوجی قیادت کا بحرانی اجلاس جاری

مصر کی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کا اجلاس جاری ہے جبکہ فوج کی جانب سے صدر مرسی کو حالات کنٹرول کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہو گئی ہے۔

مصری فوج نے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی مگر صدر مرسی نے فوج کے الٹی میٹم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کریں گے۔

فوج کی جانب سے دی جانے والی مہلت گرینج کے معیاری وقت کے مطابق دو بج کی تیس منٹ پر ختم ہو گئی۔

دوسری جانب ملک بھر میں حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کی طرف سے جاری مظاہروں کے دوران منگل اور بدھ کی درمیانی شب جھڑپیں جاری رہیں۔ قاہرہ یونیورسٹی میں صدر مرسی کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مصر: صدر مرسی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا

حزب اختلاف کا صدر مرسی پر دباؤ برقرار

منگل کو رات گئے قوم سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں صدر مرسی نے کہا کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کریں گے۔

صدر مرسی کی تقریر کے بعد فوج کی جانب سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیغام ’ فائنل آوور یعنی آخری گھنٹہ‘ شائع کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے’ ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم مصر اور اس کے لوگوں کی حفاظت کے لیے انہیں دہشت گردوں، بنیاد پرستوں اور بےوقوفوں سے بچانے کے لیے اپنا خون بھی دیں گے ‘۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فوجی ذرائع نے ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ’ مصری فوج کا نئے صدارتی انتخابات کرانے،نئے آئین کو معطل کرنے اور پارلیمان کو تحلیل کرنے کا منصوبہ ہے‘۔

وزارت دفاع کے ایک افسر کے مطابق آرمی چیف نے اس ہفتے کے آغاز میں صدر مرسی سے ملاقات کی تھی اور اب وہ اعلیٰ فوجی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں۔مگر صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوج کو روڈ میپ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حزب اختلاف کی تحریک تمرد یعنی’باغی‘ نے پیر کو الٹی میٹم جاری کیا تھا کہ اگر صدر مرسی مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام پانچ بجے تک اقتدار سے الگ نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔

اس کے بعد مصری فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی۔

صدر مرسی نے فوج کے بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا اس سے ابہام پیدا ہوگا۔

منگل کو صدر محمد مرسی نے ملک کے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفاتح السیسی سے دن دونوں میں مسلسل دوسری ملاقات کی۔ دوسری ملاقات میں وزیراعظم ہاشم قندیل بھی شامل تھے تاہم اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

گذشتہ چند روز میں قاہرہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

صدر مرسی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ فوری انتخابات کے مطالبے کی ایک پٹیشن پر دو کروڑ بیس لاکھ افراد نے دستخط کیے ہیں۔

مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراؤٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں