سنوڈن کیس: فضائی راستہ روکنے پر بولیویا کا احتجاج

بولیویا کی حکومت نے یورپی ممالک پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اس کے صدر کے طیارے کو اس لیے اپنی فضائی حدود میں داخلے سے روکا دیا کیونکہ انھیں شک تھا کہ امریکہ سے مفرور ہونے والے خفیہ ایجنسی کا سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن اسی طیارے میں سوار ہیں۔

بولیویا کا کہنا ہے کہ پرتگال،سپین اور اٹلی نے صدر ایو موریلس کے طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخلے سے اس وقت روکا جب وہ ماسکو سے واپس آ رہے تھے۔ طیارے کو ویاناکی جانب موڑ دیاگیا۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کی خفیہ معلومات کو منظر عام پر لانے والے امریکہ کو مطلوب شخص ایڈورڈ سنوڈن کا پتہ لگانے کے لیے طیارے کی ثلاشی لی گئی۔ لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ سوڈن تاحال ماسکو کے شرمتویو ائیرپورٹ پر موجود ہیں۔وہ بولیویا اور بہت سے دیگر ممالک میں سیاسی پناہ کے لیے کوشاں ہیں۔

اقوام متحدہ میں بولیویا کے نمائندے ساچا لورنٹی نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اقوام متحدہ سے اس کی شکایات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریباً تیرہ گھنٹے تک اغوا کرنے کا معاملہ تھا۔

لیکن دوسری جانب فرانس نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس نے بولیویا کے صدر کے طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخلے سے روکا تھا جبکہ سپین متعدد بار کہہ چکا ہےکہ اس کے فضائی راستے طیارے کے لیے کھلے ہوئے تھے۔

آسٹریا کے حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ بویلین صدر کے طیارے کی تلاشی لی گئی تاہم خود بولیویا کے حکام نےصدر کے طیارے کی تلاشی کی خبر کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنورڈن نے امریکہ سے نکلنے کے بعد انہوں نے دستاویزی ثبوت فراہم کیے ہیں جن سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ کس طرح مختلف ممالک کی جاسوسی کرتا ہے۔امریکی حکومت نے ان پر بغاوت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی ہے تاہم وہ امریکہ چھوڑ کر پہلے ہانگ کانگ گئے اور اب وہ گزشتہ کئی روز سے روس کے دارالحکومت ماسکو کے ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔

سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن ان کی گرفتاری کے لیے ماورائے قانون اقدامات کر رہا ہے اور انہیں پناہ دینے سے دوسرے ممالک کو منع کر رہا ہے۔

ادھر روس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روس کو دی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواست پارلیمان کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد واپس لے لی جبکہ ایکواڈور کے صدر رافائل کوئریا کے مطابق امریکی نائب صدر نے اُن سے ایڈورڈ سنوڈن کی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے کہا ہے۔

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے 21 ممالک کو سیاسی پناہ کی درخواستیں بھیجی ہیں۔

اسی بارے میں