منصفانہ جمہوریت کا وعدہ، مرسی فوج کی حراست میں

Image caption مصر کی فوج نے گزشتہ شب صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں تمام گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی نئی حکومت میں شریک ہوں۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد عدلی منصور نے مصری عوام سے ایک منصفانہ جمہوریت کا وعدہ کیا جس میں سابق صدر مرسی کی اخوان المسلمین بھی شامل ہوگی۔

سابق صدر مرسی اس وقت فوج کی حراست میں ہیں جبکہ اخوان المسلمین کے رہنما کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مصر کی بااثر سلفی تحریک نے اسلام پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے احتجاج بند کریں۔

مصر کی فوج نے بدھ کی رات صدر محمد مرسی کو برطرف کرتے ہوئے ملک کا آئین معطل کرنے کے بعد، ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مصر کی فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

صدر اوباما نے فوج پر زور دیا ہے کہ وہ مصر کے عوام کا حقوق کا احترام کریں اور تمام افراد کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہو۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ مصر کو دی جانے والی امداد پر بھی نظر ثانی کرے گا۔

ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت مصر میں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ ولیم ہیگ نے فوجی بغاوت کے ذریعے صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے اقدام کی مذمت نہیں کی ہے۔

مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے بدھ کی رات ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’محمد مرسی لوگوں کے مطالبات پورا کرنے میں ناکام ہوگئے‘۔

ادھر محمد مرسی نے فوج کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا ہے۔

خطاب کے موقع پر جنرل عبدالفتح کے ساتھ ملک کے مذہبی اور حزبِ اختلاف کے رہنما بھی موجود تھے۔

اعلیٰ کمانڈروں کے اجلاس کے بعد فوج کے سربراہ نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس عبوری انتظامیہ کے سربراہ ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس صدارتی احکامات جاری کرنے کے اختیارات بھی ہوں گے۔

فوجی سربراہ کا خطاب سن کر تحریر سکوائر میں جمع مرسی کے مخالفین نے خوشی کے نعرے لگائے اور آتش بازی کی جبکہ محمد مرسی کے حامیوں نے ’فوجی بغاوت قبول نہیں‘ کی نعرے بازی کی۔

فوج کی جانب سے یہ اقدامات محمد مرسی کے خلاف چار دن سے جاری شدید احتجاج اور ملک کے کو حالات کنٹرول کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اٹھائے گئے۔

جنرل عبدالفتح السیسی کے خطاب کے بعد کوپٹک چرچ کے سربراہ پوپ طوادروز دوم اور حزبِ اختلاف کے رہنما محمد البرادی نے بھی مختصر تقاریر کیں۔

ادھر فوجی سربراہ اور حزبِ اختلاف کے رہنما کی تقاریر کے بعد محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہو گئیں۔

اخوان المسلمین کے دو اہلکاروں نے اپنے علحیدہ علحیدہ بیانات میں کہا ہے کہ محمد مرسی کو حکام نے حراست میں لے لیا۔

اس سے پہلے خبروں میں کہا گیا تھا کہ محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے دوسرے اہم رہنماؤں کے سفر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

مصر: صدر مرسی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا

محمد مرسی کے فیس بک کے صفحے پر پیغام میں فوج کے اقدامات کو’فوجی بغاوت‘ قرار دیا گیا۔ پیغام میں فوجی اور عام شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے فوجی بغاوت کی حمایت نہ کریں۔

Image caption فوج کے سربراہ کا خطاب سن کر تحریر سکوائر میں جمع مرسی کے مخالفین نے خوشی کے نعرے لگائے اور آتش بازی کی

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف علاقوں میں فوج تعینات کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے فوج کی جانب سے صدر مرسی کو حالات کنٹرول کرنے کے لیے دی گئی مہلت بدھ کی دوپہر ختم ہو گئی تھی۔

مصری فوج نے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت اور اس کے مخالفین ’عوام کے مطالبات‘ ماننے میں ناکام رہے تو فوج مداخلت کرے گی مگر محمد مرسی نے فوج کے الٹی میٹم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کریں گے۔

منگل کو رات گئے قوم سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں محمد مرسی نے کہا تھا کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور وہ مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے کی حفاظت کریں گے۔

محمد مرسی کی تقریر کے بعد فوج کی جانب سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیغام ’ فائنل آوور یعنی آخری گھنٹہ‘ شائع کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا تھا ’ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم مصر اور اس کے لوگوں کی حفاظت کے لیے انہیں دہشت گردوں، بنیاد پرستوں اور بےوقوفوں سے بچانے کے لیے اپنا خون بھی دیں گے‘۔

گذشتہ چند روز میں قاہرہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں مظاہرین نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مرسی 30 جون 2012 کو انتخاب میں کامیابی کے بعد کسی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے مصر کے پہلے صدر بنے تھے۔ ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینانی اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔

اسی بارے میں