تقسیم چوک: تعمیراتی منصوبے کو روکنے کا عدالتی حکم

Image caption یہ واضح نہیں کہ اس عدالتی حکم کو اب کیوں منظرِعام پر لایا گیا ہے

ترکی میں ایک عدالت کی طرف سے استنبول شہر کے تقسیم چوک میں واقع گیزی پارک میں حکومت کے تعمیراتی منصوبے کو روکنے کا حکم سامنے آیا ہے۔

عدالت نے استنبول میں عوامی باغ کی جگہ پر شاپنگ سینٹر کی تعمیر کے منصوبہ کو روکنے کا حکم آٹھ جون کو جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب اس تعمیراتی منصوبے کے خلاف بڑے پیمانے پر اسنتبول میں مظاہرے ہو رہے تھے۔

یہ واضح نہیں کہ اس عدالتی حکم کو اب کیوں منظرِعام پر لایا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تقسیم چوک کے قریب گیزی پارک میں سلطنتِ عثمانیہ دور کے فوجی بیرک کے طرز پر تعمیراتی منصوبے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق عدالت نے چوک میں فٹ پات تعمیر کرنے کے منصوبے کو بھی روک لیا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ ماحولیات کو بہتر رکھنے کے لیے مہم چلانے والوں کی جیت ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے گیزری پارک میں کیمپ لگا کر دو ہفتوں سے زیادہ وقت گزارا جس کے بعد پولیس نے ان کو وہاں سے نکالا۔

تقسیم چوک کے مسئلے پر ہونے والے احتجاج نے مظاہرین کو اپنے دوسرے مسائل اجاگر کرنے کے لیے روشنی کے دیے کا کام کیا۔

ترکی میں یہ ہنگامے 28 مئی کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب حکومت نے استنبول میں عوامی باغ کی جگہ پر ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنا چاہا۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بڑھ کر پورے ملک میں پھیل گیا۔

مظاہرین کا اعتراض ہے کہ تین بار وزیرِاعظم منتخب ہونے والے اردوغان نے ان مظاہروں سے نمٹنے میں ضرورت سے زیادہ سختی دکھائی ہے۔

حکام کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار افراد زخمی اور چار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں