مصر: محمد البرادعی کی تعیناتی مشکوک

Image caption محمد البرادعی نے فوج کی جانب سے محمد مرسی کو برطرف کرنے کے فیصلے کی حمایت کی تھی

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہا ہے کہ محمد البرادعي کو ملک کا عبوری وزیراعظم مقرر نہیں کیاگیا ہے اور اس سلسلے میں ابھی مشاورت جاری ہے۔

اس سے پہلے مصری حکام نے کہا تھا کہ محمد البرادعی کو عبوری وزیر اعظم مقرر کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے اور وہ کسی بھی وقت وزیراعظم کے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔

مصری صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ عبوری وزیر اعظم کی تعینانی کے لیے مشاورت کا عمل کا جاری ہے۔

محمد البرادعی کی تعیناتی کے اعلان پر مصر کی سلفی جماعت نور پارٹی نے محمد البرادعی کی تعیناتی پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ البرادعی کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔

محمد البرادعی نے سنیچر کو عبوری صدر عدلی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ البرادعی ملک کے عبوری وزیر اعظم ہوں گے۔

محمد البرادعي مصر میں روشن خیال اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ ہیں۔

ادھر ملک میں محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ محمد البرادی کی تعیناتی کے اعلان کے بعد احتجاج میں تیزی آئی ہے۔

مصر میں صدر مرسی کی برطرفی کے بعد ان کے حامیوں کے مظاہرے پرتشدد رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں تیس کے قریب افراد ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

مصر میں سابق صدر مرسی کی برطرفی کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں پر اقوام متحدہ اور امریکہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد روکنے پر زور دیا ہے۔

امریکہ کے دفتر خارجہ نے مصر کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

سابق صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جمعے سے شروع ہونے والے مظاہروں میں تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ایک ہزار سے بھی زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی دفتر خاِرجہ کی ترجمان جین پساکی نے اپنے بیان میں کہا ’ہم تمام مصری رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال کی حوصلی شکنی کریں اور اپنے حامیوں کو تشدد سے روکیں‘۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ مصر کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور ان مراحل میں تمام افراد کو شامل ہونا چاہیے۔انھوں نے اپنے بیان میں ’خوفناک جنسی تشدد‘ کا ذکر بھی کیا۔

اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سیکریٹری جنرل کو یقین ہے کہ یہ ایک ایسا نازک مرحلہ ہے جس میں مصری عوام کو پرامن طریقے سے جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہو گی‘۔

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق ’مصر کے رہنماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و فعل سے یہ بات ثابت کریں کہ پرامن اور جمہوری مذاکرات میں خواتین سمیت تمام افراد کو شامل کیا جائے‘

مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے برطرف کرنے کے بعد لاکھوں افراد احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔صدر مرسی سمیت اخوان المسلمین کی کئی رہنما حراست میں ہیں۔

مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کی ترغیب دینے پر اخوان المسلمین کے نائب رہنما کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مظاہروں میں شدت جمعہ کو اس وقت آئی جب محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرے پر فوج کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔

مصر کی فوج نے عوام کو پر امن احتجاج کے حق کی ضمانت دی تھی اور صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف اخوان المسلمین کے حامیوں نے آج سنیچر کو بھی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزراتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے دو الگ الگ مظاہروں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ سکندریہ میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ مصر کی فوج کے سربراہ نے بدھ کی رات مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جبکہ صدر مرسی کے حامیوں نے اس اقدام کو ’فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

قائرہ میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب مرسی کے حامیوں نے ریپبلکن گارڈ ہیڈ کواٹرز کی جانب جمع ہونا شروع کیا جہاں اطلاعات کے مطابق محمد مرسی کو رکھا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار گیون لی نے بتایا کہ یہ جھڑپیں آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتی گئیں۔

ان جھڑپوں کے دوران ایک کار کو آگ لگا دی گئی جبکہ محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا۔

محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرے میں فوج کی جانب سے فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مظاہرین صدارتی محافظوں کے آفیسرز کلب کے باہر جمع ہو رہے تھے۔

اسی بارے میں