دوحہ میں طالبان کا دفتر عارضی طور پر بند

خلیجی ملک قطر میں طالبان نے اپنا دفتر عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امید کی جا رہی تھی کہ اس دفتر کے ذریعے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

منگل کو طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے دفتر بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اُن سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔

اٹھارہ جون کو کھولنے والا طالبان کا دفتر افغانستان میں بارہ سال سے جاری جنگ میں ممکنہ امن معاہدے کی جانب پہلا قدم تصور کیا جا رہا تھا۔ تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے اس دفتر کی مخالفت کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس دفتر کو طالبان کی حکومت کے سفارتخانے کی طرز پر بنایا گیا تھا۔

اس دفتر کے احتجاج کے طور حامد کرزئی نے سکیورٹی کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے تھے اور امریکہ اور طالبان کے درمیان کسی بھی معاہدے کو نہ ماننے کی دھمکی دی تھی۔

پاکستان میں موجود طالبان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے دوحہ میں تنظیم کا دفتر بند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’امریکہ، کابل میں حکومت اور دیگر ان تمام فریقوں سے خوش نہیں ہیں جو ان کے ساتھ ایماندار نہیں تھے۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دفتر کے بند ہونے سے معاملے میں پیش رفت کو معطل نہیں ہونا چاہیے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین پاسکی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ دفتر کے کُھلنے سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں اُن سے مفاہمت کے عمل کو نہیں رکنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ امن کی جانب گامزن رہنے کے موقف کی تائید کرتی ہیں۔

تازہ ترین کشیدگی کی ایک وجہ منگل کے روز افغان حکام کی جانب سے مغربی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے سترہ افراد ہلاک ہونے کے واقعے کی ذمہ داری طالبان پر ڈالنا ہے۔

گزشتہ دو سالوں میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے دیسی ساختہ بموں کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال میں اٹھارہ سو پولیس اہلکاروں اور نو سو فوجیوں میں سے زیادہ تر کو ہلاک کرنے میں ایسے ہی بم استعمال ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جنوبی صوبے قندھار میں ایک ایسے ہی حملے میں آٹھ خواتین سمیت دس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب سنہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کی وجہ سے بھی ان مذاکرات میں کافی مشکلات آ رہی ہیں۔ امریکی صدر اوباما آئندہ سال نیٹو افواج کی واپسی کا اعلان کر چکے ہیں تاہم ابھی اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے کہ اس کے بعد افغانستان میں کتنے امریکی فوجی رہیں گے۔

یاد رہے کہ تین سال پہلے طالبان کے نمائندے مغربی ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے خفیہ طور پر قطر پہنچے تھے۔

بی بی سی افغان سروس کے ہمارے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ طالبان کو معلوم تھا کہ نیٹو بالخصوص امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی اور اپنے جانے کے بعد ایک مستحکم اور پُرامید افغانستان کے لیے امن معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

گزشتہ سال مارچ میں طالبان نے امریکہ سے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات منقطع کر دیے۔ وہ امریکی فوجی بوئی برگدہال کی رہائی کے بدلے امریکی جیل گونتاناموبے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی چاہتے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان نے امریکی فوجی کو سنہ 2009 میں اغوا کیا تھا۔

قطر میں طالبان نمائندوں کی تعداد اور سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور اب طالبان کے تقریباً بیس سے زائد بڑے رہنما اپنے خاندانوں سمیت قطر منتقل ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں