دنیا میں چینی مصنوعات کی مانگ میں کمی

Image caption چین کی معاشی ترقی میں برامدات نے اہم کردار ادا کیا ہے

عالمی سطح پر اقتصادی ترقی میں کمی کی وجہ چین کی تجارتی سرگرمیاں میں غیر متوقع طور پر کمی ہوئی ہے اور چین کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر تین فیصد کمی آئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق چین کی برآمدات میں چار فیصد اضافہ متوقع تھا جبکہ درامداتمیں اعشایہ سات فیصد کمی چینی عوام کی جانب سے طلب میں کمی کو ظاہر کر رہی ہیں یعنی ملکی اور غیر ملکی سطح پر چینی مصنوعات کی طلب میں کمی آئی ہے۔

چین کا شمار دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ہوتا ہے جو عالمی سطح پر برامدت میں کم ہونے کے بعد اپنی معیشیت میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران چین کی اقتصادی شرح نمو معمولی کمی کے بعد 7.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

امریکہ اور یورپی ممالک میں چین کی برآمدات میں کمی کے باعث اقتصادی شرح نمو میں مزید کمی کا امکان ہے۔

عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت دیگر اداروں نے چین کی اقتصادی ترقی میں کمی کا عندیہ دیا ہے جبکہ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ درامدات اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں چین کی اقتصادی ترقی پر دباؤ بڑھے گا۔

برآمدات کے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں چینی مصنوعات کی غیر ملکی طلب خطے کے دوسرے ملکوں کی برآمدات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

دوسری جانب عام تاثر یہ ہے کہ چین کے برامدی کمپنیاں ملک میں رقم لانے پر عائد ہونے والی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کے لیے اصل فروخت سے زیادہ برآمدات ظاہر کر رہے ہیں۔

ان خدشات کی بنا پر چینی حکام نے ملک میں سرمائے کی آمد اور منتقلی پر کڑی نگاہ رکھی ہے اور زرِ مبادلہ کے نگران ادارے (ایس اے ایف ای) نے برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن اور دارمدی ادائیگیوں کی غلط معلومات فراہم کرنے پر جرمانہ عائد کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غلط معلومات فراہم کرنے پر حکومتی کارروائی سے تجارتی سرگرمیوں کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ چین کے تجارتی اعدادوشمار اب کسی حد تک معیشت کی عکاسی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں