مصر کو ایف سولہ طیارے ملیں گے: امریکی حکام

Image caption امریکہ مصر کو سالانہ تقریبا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر مالیت کی عسکری امداد دیتا ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مصر میں جاری کشیدگی کے باوجود بھی دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ مصر کو ایف سولہ لڑاکا طیارے دے گا۔

فوج کی جانب سے صدر مرسی کی حکومت برطرف کرنے کے بعد سے امریکہ کا موقف ہے کہ وہ فوج کے اس اقدام کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی قوانین کے مطابق مصر میں حکومت کی برطرفی کو ’بغاوت‘ قرار دینے پر مصر کو ملنے والی فوجی امداد بند ہو جائے گی۔

مصر میں صدر مرسی اور اخوان المسلمین کے حامی احتجاج کر رہے ہیں اور صدر کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن آئندہ چند ہفتوں میں ایف سولہ طیاروں کی اگلی کھیپ مصر کو دے گا۔

امریکہ نے مصر کو بیس ایف سولہ لڑاکا طیارے دینے کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں رواں سال جنوری میں آٹھ ایف سولہ طیارے مصر کو مل چکے ہیں جبکہ سال کے آخر تک مزید آٹھ طیارے مصر کو دینے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان جے کارنی نے کہا تھا کہ ’امدادی پروگرام میں فوری تبدیلی امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے‘

انھوں نے کہا کہ صدر مرسی کی اقتدار سے برطرفی کے مضمرات جاننے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

امریکہ مصر کو سالانہ تقریبا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر مالیت کی عسکری امداد دیتا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کیٹ وٹسن کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما مصر میں ہونے والی حالیہ تبدیلی میں ’بغاوت‘ کا لفظ استعمال کرنے میں احتیاط کر رہے ہیں۔

مصرکی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ’محفوظ مقام‘ پر رکھا گیا ہے۔

مصر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن صدر مرسی کو ’بہت باعزت طریقے‘ رکھا گیا ہے۔

وزرات خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ صدر مرسی پر ابھی تک الزامات عائد نہیں ہوئے ہیں۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر مرسی کو ’اُن کی اپنی حفاظت‘ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ’ ملک کے لیے ضروری ہے کہ انھیں (مرسی) کو محفوظ مقام پر رکھا جائے نہیں تو نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں‘

انھوں نے قاہرہ میں ریپبلکن گارڈ کے برئیکس میں صدر مرسی کی موجودگی کی تردید کی ہے۔

صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے قائد اور کئی اعلیٰ رہنما اس وقت حراست میں ہیں جبکہ سینکڑوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

پراسکیوٹر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 200 افراد کو مزید پندرہ دن تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ قتل، تشدد، غیر قانونی آسلحہ رکھنے کی تحقیقات کی جا سکیں جبکہ مظاہروں میں گرفتار ہونے والے 450 افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

پیر کو ہونے والے مظاہروں میں تشدد کے بارے میں معلومات متنازع ہے۔ ان مظاہروں میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ روز مصر کی انسانی حقوق کی علمبردار پندرہ تنظیموں نے اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف ’طاقت کے غیر ضروری استعمال کی شدید مذمت‘ کی اور پیر کو ہونے والے واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ مظاہروں کا دائرہ کئی کلومیٹر تک پھیل گیا ہے اور مزید خون ریزی کا امکان ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین یہ محسوس کر رہے ہیں کہ حالات دوبارہ صدر حسنی مبارک کے دور جیسے ہو رہے ہیں جب خوان المسلمین پر پابندی تھی اور اس کے اراکین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے مصر کی عبوری حکومت کو تیل اور گیس سمیت 12 ارب ڈالر مالیت قرضے اور گرانٹس دینے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں