عراق: تشدد کی لہر، ایک دن میں 30 ہلاک

Image caption عراق میں شیعہ اور سنّی برادریوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے

حکام کے مطابق عراق میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں متعدد بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے بیشتر افراد سکیورٹی اہلکار تھے۔

شمال مشرقی بغداد میں مقدادیہ کے مقام پر ایک جنازے پر دو بم حملوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

دوسری طرف انبار صوبے میں سکیورٹی فورسز پر ایک حملے میں چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے لے کر اب تک پر تشدد حملوں میں دو ہزار پانچ سو عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں گذشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون دو ہزار آٹھ سے لے کر اب تک کا بدترین مہینے مئی دو ہزار تیرہ رہا ہے۔

حملوں کا یہ تازہ ترین سلسلہ اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ عراق میں شیعہ اور سنّی برادریوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ سنّی برادری کا دعویٰ ہے کہ وزیرِاعظم نوی المالکی کی حکومت ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔

مقدادیہ میں ہونے والے حملے میں پہلے ایک گاڑی میں نصب بم پھٹا جس کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران ایک شخص نے خودکش حملہ کیا۔

اس حملے میں بیس سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقدادیہ بغداد سے تقریباً اسی کلومیٹر کے فاضلے پر ہے اور اسے دارالحکومت کے مضافات میں تصور کیا جاتا ہے۔

ادھر ہدیتھہ کے قصبے میں ایک فوجی چوکی پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے گیارہ افراد کو قریب میں تیل کی پائپ لائن کی حفاظت سونپی گئی تھی اور حملہ اُس وقت کیا گیا جب یہ اہلکار ماہِ رمضان کے سلسلے میں افطار کرنے والے تھے۔

انبار صوبے میں رماردی، خالدیہ اور فلوجہ کے ساتھ ساتھ تکریت اور کرکک کے علاقوں میں بھی حملے ہوئے۔

حملوں کا یہ سلسلہ اپریل میں اُس وقت شروع ہوا جب حکومتی فورسز نے ہویجہ کے شہر میں ایک حکومت مخالف سنّی مظاہرے کے خلاف کارروائی کی جس میں درجنوں افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔

اگرچہ سنہ دو ہزار چھ اور دو ہزار سات میں شدت پسندی کے عروج پر دیکھے گئے تشدد کے واقعات کے مقابلے میں حالات قدرے بہتر ہیں تاہم دو ہزار گیارہ میں امریکی افواج کے انخلا سے اب تک کی یہ بدترین دشتگردی کی کارروائیاں ہیں۔

اسی بارے میں