سنوڈن کے معاملے پر امریکہ چین سے ’مایوس‘

Image caption وینزویلا، بولیویا اور نکیراگوا نے سنوڈن کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے امریکی حکومت کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو حوالے نہ کرنے سے مایوس ہوا ہے۔

سینیئر چینی حکام سے بات چیت کے بعد امریکی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

چین کے ریاستی کاؤنسلر ینگ جیئچی کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ نے خطے کے قوانین کے مطابق کام کیا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن کے معاملے کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات پر برا اثر پڑا ہے۔

امریکہ ایڈورڈ سنوڈن پر ہزاروں خفیہ امریکی دستاویزات افشا کرنے کی وجہ سے مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔

تئیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تئیس جون کو ہانگ کانگ سے روانہ ہونے کے بعد ماسکو ہوائی اڈے کے ایک ہوٹل میں چھپے ہوئے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن نے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن ان کی گرفتاری کے لیے ماورائے قانون اقدامات کر رہا ہے اور انہیں پناہ دینے سے دوسرے ممالک کو منع کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایڈورڈ سنوڈن نے 21 ممالک کو سیاسی پناہ کی درخواستیں بھیجی ہیں۔

ان ممالک میں سے بیشتر نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی تاہم وینزویلا، بولیویا اور نکیراگوا نے یہ درخواست منظور کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ادھر روس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایڈورڈ سنوڈن نے روس کو دی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواست پارلیمان کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد واپس لے لی ہے۔

اس سے پہلے روس کے صدر ولادمیر پوتن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ماسکو کسی شخص کو کہیں پر بھی کسی کے حوالے نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر سنوڈن کسی ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں پر اُنھیں قبول کیا جائے تو وہ خوشی سے جا سکتے ہیں‘۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہماری صرف ایک شرط ہے۔ شاید میرے منہ سے یہ بات عجیب لگتی ہے لیکن وہ ہمارے امریکی ساتھیوں کو نقصان پہنچانے والی اپنی سرگرمیاں بند کردیں‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے تنزیہ انداز میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان سنوڈن کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے اور روس کے درمیان ملک بدری کا معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ سنوڈن روس تک بغیر سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کے پہنچے ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ روس بین الاقوامی سفری قوانین کے مطابق فیصلے کرے گا۔‘

اسی بارے میں