معلومات کے تحفظ کے لیے کمپیوٹر کی جگہ ٹائپ رائٹر

Image caption کمپیوٹر کے پرنٹرز کے برعکس ہر ٹائپ رائٹر کا ایک انفرادی نمونہ ہوتا ہے

روس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ کریملن کی حفاظت کی ذمہ دار روسی ایجنسی نے کمپیوٹرز کی جگہ ٹائپ رائٹرز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی وجہ بظاہر اہم معلومات افشا ہونے سے روکنے کی کوشش ہے۔

ملک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ایف ایس او نامی ایجنسی نے تقریباً پانچ لاکھ روبل مالیت کے الیکٹرانک ٹائپ رائٹرز کی خریداری کا سودا کیا ہے۔

ایف ایس او نے یہ نہیں بتایا کہ اسے یہ ٹائپ رائٹرز کیوں درکار ہیں لیکن ایجنسی کے ذرائع نے ایک روسی اخبار کو بتایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کمپیوٹرز سے معلومات چوری ہونے کا خطرہ ختم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ’وکی لیکس کی جانب سے امریکہ کی خفیہ دستاویزات افشاء کیے جانے، ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں معلومات سامنے لانے اور 2009 میں لندن میں جی 20 اجلاس میں روسی صدر دیمیتری میدوی ایدف کی نگرانی کی اطلاعات کے بعد کاغذی دستاویزات کی تیاری میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

روسی اخبار کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے پرنٹرز کے برعکس ہر ٹائپ رائٹر کا ایک انفرادی نمونہ ہوتا ہے کہ جس کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہے کہ اس دستاویز کو کس ٹائپ رائٹر پر تیار کیا گیا ہے۔

روسی ایجنسی کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس کی وزارتِ دفاع اور ہنگامی حالات کی وزارتیں خفیہ نوٹس کی تیاری کے لیے پہلے ہی ٹائپ رائٹرز استعمال کرتی ہیں اور ملک کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے لیے بھی کچھ رپورٹس ٹائپ رائٹر پر ہی لکھی جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے حال ہی میں امریکہ کی ہزاروں خفیہ دستاویزات عام کی ہیں اور اس وقت وہ امریکہ سے فرار ہونے کے بعد پناہ کے متلاشی ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ روسی دارالحکومت ماسکو کے ہوائی اڈے میں قیام پذیر ہیں۔

اسی بارے میں