شام: باغی رہنما مخالف گروہ کے حملے میں ہلاک

Image caption صدر بشار الاسد کے خلاف سیرین فری آرمی کو لڑائی میں کامیابی کے لیے مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

شام میں حکومت مخالف تنظیم فری سیرین آرمی کے اہم رکن کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مخالف باغی گروہ نے ہلاک کر دیا ہے۔

فری سیرین آرمی کے اہم رکن کمال حمامی جو ابوبسیل کے نام سے جانیں جاتے ہیں عراق میں تھے جہاں وہ سپریم ملٹری کونسل کے اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔

فری سیرین آرمی کے ترجمان نے بتایا کہ فون کالز کے ذریعے انھیں ابوبسیل کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

حکومت مخالف گروہ کے رہنما کی ہلاکت مسلح گروہوں میں اسلامی شدت پسند اور اعتدال پسند کے مابین بڑھتی خلیج کا ظاہر کرتی ہے۔

اس طرح کے واقعات نے مغربی ممالک کی جانب سے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف باغیوں کو مسلح کرنے پر تحفظات مزید بڑھا دیے ہیں۔

فری سیرین آرمی کے ترجمان نے بتایا کہ ابوبسیل عراق میں سپریم ملٹری کونسل کے اراکین سے ملاقات میں ’جنگی منصوبوں‘ پر بات چیت کر رہے تھے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ ’اسلامی ریاست سے مجھے فون کر کے بتایا کہ ابو بسیل ہلاک ہو گئے ہیں اور وہ پوری سپریم ملٹری کونسل کو ہلاک کرنا چاہتے تھے‘

بیروت میں بی بی سی کے نامہ پال وڈ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مسلح گرہوں میں لڑائی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کی جنگ اب کسی حد تک نظریاتی رخ اختیار کر چکی ہے جس میں سیکیولر جماعت فری سیرین آرمی کے مقابلے میں اسلامی شدت پسند ہیں۔

سنہ 2011 میں فوج چھوڑ کر ترکی میں پناہ لینے والی فوجیوں نے فری سیرین آرمی بنائی تھی۔ تنظیم کے مطابق اُن کے تقریباً 40 ہزار اراکین ہیں۔

صدر بشار الاسد کے خلاف لڑائی میں سیرین فری آرمی کو کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن جنگ جینتے کے لیے انھیں مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں