محمد مرسی کو رہا کیا جائے: امریکہ، جرمنی

Image caption مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سابق صدر مرسی کے حامی اور مخالفین بڑے مظاہرے کی تیاریوں میں مصروف ہیں

امریکہ نے مصر کی فوج سے کہا ہے کہ برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کو رہا کر دیا جائے۔

مصر میں سابق صدر مرسی کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔

امریکہ نے یہ بات اُس وقت کی ہے جب چند ہی گھنٹے قبل جرمنی نے بھی معزول صدر کی رہائی کی اپیل کی تھی۔

اخوان المسلمین کے حامی گذشتہ ہفتے سے قاہرہ کے مشرقی حصے میں واقع ایک مسجد اور اس کے اطراف میں موجود ہیں جبکہ صدر مرسی کے مخالفین کا مرکز دارالحکومت کا تحریر سکوائر ہے۔

صدر مرسی کی معزولی کے بعد ہونے والے مظاہروں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین کی تحریک نے مصر کو منقسم کر دیا ہے لیکن مصر کے لوگ سیاست میں فوج کی مداخلت پر عدم اطمینان کا شکار ہیں۔

واشنگٹن سے بی بی سی کی نامہ نگار کم عٹاس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اب تک محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کرنے سے اجتناب کیا تھا اور صرف اخوان المسلمین کے رہنماؤں کی بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کو روکنے کے لیے کہا تھا۔

نامہ نگار کا کہنا تھا کہ تاہم جرمنی کی جانب سے اس مطالبے کے بعد امریکہ کو بھی یہ بات کرنا پڑی۔

اس سے پہلے جمعے کے روز جرمنی کے وزیر خارجہ نے مصری حکام سے کہا تھا کہ محمد مرسی کی نظر بندی ختم کی جائے اور ہلالِ احمر جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کو اُن تک رسائی دی جائے۔

جب امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جن پساکی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جرمنی کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ’جی ہاں، ہم اس سے متفق ہیں۔‘

اس سے پہلے امریکہ نے مصر کی قیادت سے کہا تھا کہ وہ اخوان المسلمین کے ارکان کی گرفتاریاں روک دے اور کسی بھی ایک گروہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا تھا کہ ’اگر آپ کا مقصد سب عناصر کو شامل کرنا ہے تو آپ اپنے خلاف ہی کام رہے ہیں۔‘

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے بھی کسی ایک جماعت کو علیحدہ کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

تاہم امریکی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ مصر میں جاری کشیدگی کے باوجود بھی دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ مصر کو ایف سولہ لڑاکا طیارے دے گا۔

فوج کی جانب سے صدر مرسی کی حکومت برطرف کرنے کے بعد سے امریکہ کا موقف ہے کہ وہ فوج کے اس اقدام کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی قوانین کے مطابق مصر میں حکومت کی برطرفی کو ’بغاوت‘ قرار دینے پر مصر کو ملنے والی فوجی امداد بند ہو جائے گی۔

اس سے پہلے صدر مرسی کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین نے فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے عمل کے خلاف ’پرامن‘ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

Image caption بان کی مون کا کہنا تھا کہ مصر میں کسی بھی بڑی پارٹی کے نکالنے جانے یا اُس سے انتقام لیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

اخوان المسلمین کی جانب سے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آئینی جمہوریت کے خلاف فوج کی خونی بغاوت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

مصر کی موجودہ حکومت کا کہنا تھا کہ ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ’محفوظ مقام‘ پر رکھا گیا ہے۔

مصر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعطی نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں بتایا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر مرسی کہاں ہیں لیکن صدر مرسی کو ’بہت باعزت طریقے‘ سے رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں تمام گروپوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملک کی نئی حکومت میں شریک ہوں۔

مصر میں اخوان المسلمین نے ملک کے عبوری صدر عدلی منصور کے آئندہ سال کے آغاز میں انتخابات کروانے کے اعلان کو مسترد کر دیا تھا۔

عبوری صدر عدلی منصور نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں مذہبی رجحان رکھنے والی سابق حکومت کے بنائے گئے آئین میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے چار ماہ کے اندر ملک میں ریفرنڈم کروایا جائے گا۔

اسی بارے میں