مرسی کے خلاف شکایات کی تحقیقات شروع

Image caption اخوان المسلیمین نے ایک بار پھر پیر کے روز احتجاج کی کال دی ہے

مصر میں پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر فوجی بغاوت میں برطرف کیے جانے والے صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف شکایات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے جاسوسی، مظاہرین کو ہلاک کرنے پر اکسانے، فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہچانے کی شکایت موصول ہوئی ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ شکایات کس نے دائر کی ہیں۔

محمد مرسی کو رواں ماہ کے آغاز میں فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے محمد مرسی کو ہٹانے کا فیصلہ لاکھوں لوگوں کے احتجاج کے بعد کیا ہے۔

محمد مرسی کو اقتدار سے علیحدگی کے بعد نظر بند کیاگیا لیکن ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے جن میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔اخوان المسلمین نے ایک بار پھر پیر کے روز احتجاج کی کال دی ہے۔

امریکہ اور جرمنی نے بھی مصر کی فوج سے کہا ہے کہ محمد مرسی کو رہا کر دیا جائے۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شکایات کی تحقیقات کا مقصد مواد اکھٹا کرنا ہے جس کی بنیاد پر ملزمان سے تفتیش کی جا سکے۔

دفتر کے مطابق جن افراد کے خلاف شکایات ہیں ان میں محمد مرسی کے علاوہ اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدایع اور پارٹی کے سیاسی ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اعصام العریان سمیت کئی سینیئر رہنما شامل ہیں۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ مصری حکام کی جانب سے یہ اقدام عبوری حکومت اور اخوان المسلمین کے درمیان مفاہمت کے بچے کھچے امکانات کو بھی مزید کمزور کرے گا۔

اسی بارے میں