لبنان جو کسی اور کی جنگ لڑ رہا ہے

لبنان
Image caption لڑائی میں حزب اللہ کی مداخلت کے بعد خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

شام میں جاری خانہ جنگی کا دائرہ ہمسایہ ملک لبنان میں پھیلتا نظر آ رہا ہے۔جہاں شامی حکومت اور باغی دونوں کے ہی حامی موجود ہیں۔

میں کئی دہائیوں کے بعد یہ جاننے کے لیے لبنان واپس گیا کہ یہ ملک جہاں میں پیدا ہوا تھا کیوں اور کیسے خطرے میں ہے اور اسے کسی اور کی جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

1970 اور 80 کی دہائی میں جب میں بڑا ہو رہا تھا تو لبنان میں خانہ جنگی چھڑی ہوئی تھی۔میرونائٹ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا تھا اور مسلمانوں میں شیعہ ، سنی اور دروز سبھی شامل تھے۔

اب ایک بار پھر لڑائی سر پر کھڑی ہے اس مرتبہ مسلمان ہی منقسم ہیں جن میں شامی باغیوں کی حمایت کرنے والے سنی مسلمان جبکہ دمشق کی حکومت کے حامی شیعہ مسلمان ہیں۔

گزشتہ ماہ لبنانی شیعہ مسلم گروپ حزب اللہ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سنی باغیوں سے لڑنے کے لیے اپنے جنگجو شام بھیجے ہیں۔

اس لڑائی میں حزب اللہ کی مداخلت کے بعد خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

میں نے پورے لبنان کا دورہ کیا اور شامی پناہ گزینوں سے بات کی جو شام میں حزب اللہ کی مداخلت پر شدید ناراض نظر آئے۔

حزب اللہ کے جنگجو عموماً میڈیا سے بات نہیں کرتے تاہم ہماری مسلسل کوششوں کے بعد میری ایک جنگجو سے ملاقات ہوئی جس نے شام کے شہر قصیر کی حالیہ جنگ میں حصہ لیا تھا۔

اس جنگجو نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا نام موسیٰ بتایا جائے۔

موسیٰ کا کہنا تھا کہ قصیر کی جنگ خاصی تلخ تھی یہ شہر لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور جون میں شدید لڑائی کے بعد حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا۔

موسیٰ نے کہا کہ’ ہم جن لوگوں سے لڑ رہے تھے وہ بہت جارحانہ تھے۔ان لوگوں نے افغانستان، چیچنیا، بوسنیا ہرزِگووینا، لیبیا اور عراق جیسے ممالک میں جنگیں لڑی ہیں۔

یہ لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن وہ صرف خود پر یقین رکھتے ہیں اور کسی کو بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔

وہ اسلام کا پرچم لیکر چلتے تھے لیکن وہ سچے مسلمان نہیں تھے کیونکہ وہ بہت بے رحم تھے وہ لوگوں کو جلاتے تھے اور ذبح کرتے تھے۔

’وہ اس پیغام کی بھی پرواہ بھی نہیں کرتے تھے کہ اللہ سب سے عظیم ہے اور حضرت محمد ان کے پیغمبر ہیں‘۔

موسیٰ کا کہنا تھا کہ قصیر کی جنگ میں ہم نے ان لوگوں کے ساتھ اس طرح مقابلہ کیا جیسے کسی دہشت گرد کا کیا جاتا ہے کیونکہ ہماری ٹریننگ میں ہمیں ہر طرح کی جنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔

میں جنوبی شہر سڈون گیاجہاں شامی باغیوں کی مدد کے لیے ایک سنی اسلامک گروپ کی ریلی ہو رہی تھی۔

اس ریلی میں حزب اللہ کی مذمت کی جا رہی تھی اور باغیوں کے حق میں نعرے لگائے جا رہے تھے۔

یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اُس وقت حزب اللہ کی حمایت کی تھی جب اس نے اسرائیل کے خلاف لڑائی کی تھی۔

موسیٰ کا کہنا تھا کہ لبنان کے سنی مسلمانوں نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔

فرقہ وارانہ تشدد اس پوری نسل کو متاثر کر رہا ہے۔

کافی اور جوس فروخت کرنے والے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے بزرگوں کا کنٹرول ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ نوجوان ’شدت پسند نظریات‘ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ’عمل اور ردِعمل کے چکر میں پھنستے جا رہے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے میڈیا کو قصوروار ٹھہرایا۔

سڈون میں میں نےحزب اللہ مخالف ایک سنی عالم شیخ احمد العسیر سے بات کی اور پوچھا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس سے لبنان میں بھی لڑائی چھڑ سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ لبنان پہلے سے ہی جنگ کی حالت میں ہے۔

اسی بارے میں