برطانوی فوجیوں میں خودکشی کا رحجان

Image caption افغانستان میں تعینات رہنے کے بعد لیفٹینینٹ سارجنٹ ڈین کولنز نفسیاتی بیماری کا شکار ہو گئے تھے

افغانستان میں دو ہزار بارہ کے دوران خودکشی کرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد طالبان سے لڑائی میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

بی بی سی کے پروگرام پینوراما کے مطابق گذشتہ برس ڈیوٹی پر معمور 21 برطانوی فوجیوں نے خودکشیاں کیں جبکہ 29 سابق برطانوی فوجیوں نے بھی خود کو ہلاک کیا۔

بعض فوجیوں کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اِن فوجیوں کو مناسب مدد اور حمایت فراہم نہیں کی گئی۔ جبکہ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ خودکشی کا ہر واقعہ ایک سانحہ ہے۔

پینوراما پروگرام نے فریڈم آف انفارمیشن کے قانون کے تحت وزارتِ دفاع کو درخواست بھیجی تھی جس کے بعد یہ معلومات فراہم کی گئیں۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے مقابلے میں فوج میں خودکشی اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر ( پی ٹی ایس ڈی ) یعنی شدید صدمے کے بعد پیدا ہونے والے نفسیاتی مرض کی شرح کم ہے۔

ڈیوٹی پر معمور سات فوجیوں کی خودکشی کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ مزید 14 فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

برطانوی حکومت سابق فوجیوں میں خودکشی کی شرح کو ریکارڈ نہیں کرتی لیکن پینوراما پروگرام نے اپنے طور پر اِس بات کو ثابت کیا ہے کہ 2012 میں کم از کم 29 سابق فوجیوں نے خود کو ہلاک کیا۔ اِس سلسلے میں تمام تفتیشی افسران کو خطوط لکھے گئے جن میں خودکشی کرنے والے حاضر سروس اور سابق فوجیوں کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا۔ اِس کے علاوہ اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ڈین کولنز خود کشی کرنے والے فوجیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے 2009میں ہلمند میں پینتھرز کلا نامی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ اُن کی والدہ ڈینا کولنز کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا جنگ کا شکار ہوا۔

ڈین کولنس دو مرتبہ طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنے لیکن بچ گئے۔ بعد میں وہ سڑک کے کنارے نصب بم کی زد میں آ گئے اور ان کی ٹانگ ضائع ہو گئی۔ اِس دھماکے میں اُن کے دوست ایلسن اُن سے چند گز کے فاصلے پر ہلاک ہوگئے۔

ڈین کولنز کی والدہ نے اپنے بیٹے کی افغانستان میں تعیناتی کے دوران اُن کی شخصیت میں تبدیلی محسوس کی۔ ’فون پر اُن کی گفتگو کا انداز تبدیل ہو گیا۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ ماں یہ جگہ زمین پر جہنم ہے اور میں یہاں سے بس نکلنا چاہتا ہوں۔‘

افغانستان میں چھ مہینے کی ڈیوٹی کے بعد ڈین کولنز واپس آ گئے اور اپنی گرل فرینڈ وکی روچ کے ساتھ رہنے لگے۔

روچ کہتی ہیں کہ انہوں نے ڈین میں کئی باتیں محسوس کیں۔ انہیں ڈراؤنے خواب آتے تھے۔

’یہ بالکل واضح تھا کہ وہ ذہنی طور پر اب بھی اُنھی حالات میں رہ رہے تھے۔‘

فوج میں اُن کا معائنہ کیا گیا اور تشخیص ہوئی کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر نامی ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔

دس ماہ کے مسلسل علاج کے بعد انہیں کہا گیا کہ وہ اب ٹھیک ہیں اور جلد ہی ڈیوٹی پر جانے کے قابل ہو جائیں گے۔

Image caption بعض فوجیوں کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ مسائل کے شکار فوجیوں کو مناسب مدد اور حمایت فراہم نہیں کی گئی۔

لیکن اگلے تین ماہ کے دوران انہوں نے دو مرتبہ خود کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ڈاکٹر کے ساتھ اپنے ہفتے وار معائنے پر جانا چھوڑ دیا اور اپنی گرل فرینڈ روچ کو بتایا کہ اُن کی حالت بگڑ رہی ہے۔

’میں اُن کی مدد کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ اِس طرح کی صورتحال کا آپس کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔ ایک روز میں نے اُن سے کہا کہ بس تم چلے جاؤ‘

2011 کی آخری شام کو ڈین کولنز نے اپنا یونیفارم پہنا اور گھر سے نکل گئے۔ انہوں نے اپنے موبائل فون پر الوداعی پیغام ریکارڈ کیا اور خودکشی کر لی۔

اُس وقت اُن کی عمر 29 برس تھی۔ اُن کی موت کی تفتیش ہونا ابھی باقی ہے۔

دوسری جانب وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور فوجیوں میں اِس ذہنی بیماری کی شرح 2.9 فیصد ہے جو عام لوگوں کے مقابلے میں کم ہے۔

لیکن وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں افغانستان میں تعینات رہنے والے برطانوی فوجیوں میں ذہنی بیماریاں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔

اسی بارے میں