امریکہ: جارج زمرمین کو بے گناہ قرار دے دیا گیا

Image caption اس فیصلے کے خلاف امریکہ کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں

امریکی ریاست فلوریڈا میں اس رضاکار چوکیدار کو بے قصور قرار دے دیا گیا ہے جس نے ایک 17 سالہ سیاہ فام لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

29 سالہ زِمرمین کے وکلاء نے موقف پیش کیا تھا کہ انھوں نے ٹریون مارٹن کو اپنے دفاع میں گولی ماری تھی اور ان کا یہ اقدام حق بجانب تھا۔

جمعہ کو جیوری اس بات کا تعین کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی کہ آیا زمرمین پر قتلِ ارادی یا قتلِ غیر ارادی کا الزام درست ہے یا نہیں۔

اس مقدمے کی وجہ سے امریکہ میں نسلی امتیاز کے بارے میں گرما گرم بحث چھڑ گئی تھی۔

امریکی میڈیا نے بیان کیا ہے کہ رات کو سان فرانسسکو، فلیڈیلفیا، شکاگو، واشنگٹن ڈی سی اور اٹلانٹا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

پولیس اور برادری کے رہنماؤں نے فلوریڈا کے شہر سینفورڈ میں لوگوں سے پرسکون رہنے کی درخواست کی۔ مارٹن کو اس شہر میں قتل کیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد جج ڈیبرا نیلسن نے زمرمین کو بتایا کہ وہ آزاد ہیں: ’جب آپ کمرۂ عدالت سے باہر جائیں گے تو آپ کا بانڈ ختم کر دیا جائے گا اور جی پی ایس مانیٹر منقطع کر دیا جائے گا۔ آپ کا اس عدالت سے مزید کوئی سروکار نہیں ہے۔‘

جب فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا تو زمرمین نے زیادہ ردِعمل نہیں دکھایا۔

ان کے وکیل مارک اومارا نے مقدمے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا: ’امید ہے کہ سب لوگ جیوری کے فیصلے کا احترام کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ زمرمین کو اب اپنی سلامتی کے بہت محتاط ہونا پڑے گا کیوں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جنھوں نے کہا ہے کہ وہ انتقام لیں گے، اور وہ ان کی بے گناہی کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔

فلوریڈا میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولس کہتے ہیں کہ اس مقدمے کے باعث امریکہ میں بعض انتہائی متنازع مسائل ابھر کر سامنے آئے ہیں جن میں نسل پرستی، اسلحے پر کنٹرول اور قانونی مساوات شامل ہیں۔

فلوریڈا کی پولیس نے شوٹنگ کے چھ ہفتے بعد تک بھی زمرمین کو گرفتار نہیں کیا تھا، جس کے بعد فلوریڈا اور امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔

پولیس کا موقف تھا کہ ریاست کے قانون کے تحت اگر کسی شخص کو جان کا خطرہ ہو تو اسے مہلک طاقت استعمال کرنے کاحق حاصل ہے۔

ٹریون مارٹن کے وکیل بنجمن کرمپ نے کہا: ’ٹریون مارٹن سب کے لیے مساوی قانون کی جدوجہد کے علامت کے طور پر تاریخ میں زندہ رہے گا۔‘

ریاست کی اٹارنی اینجلا کوری نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کیس حدود کے بارے میں تھا اور جارج زمرمین نے حدود سے تجاوز کیا تھا۔‘

استغاثہ نے اگرچہ واضح طور پر نسلی تعصب کا ذکر نہیں کیا، تاہم انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ جارج زمرمین نے مارٹن کی رنگت اور اس کی ٹوپی والی سویٹر کی بنا پر یہ سمجھا کہ وہ کوئی غلط کام کرنے جا رہا ہے۔

تاہم دفاع نے کہا کہ مارٹن نے زمرمین کو گھونسے مارے اور ان کا سر فرش پر دے مارا اور ان سے پستول چھیننے کی کوشش کی۔

زمرمین شام کے اندھیرے میں اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے جب انھوں نے مارٹن کو بارش میں وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ زمرمین نے پولیس کو فون کیا اور کہا کہ انھوں نے ایک مشکوک شخص کو دیکھا ہے، اور پھر گاڑی سے اتر کر مارٹن کا پیچھا شروع کر دیا۔

تھوڑی دیر بعد انھوں نے مارٹن کو سینے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی اس کیس پر تبصرہ کیا تھا اور زمرمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا، ’اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ ٹریون مارٹن کی طرح ہوتا۔‘

اس فیصلے کے بعد رنگ دار افراد کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے این اے اے سی پی نے کہا ہے کہ وہ امریکی وزارتِ دفاع سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ٹریون مارٹن کے شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کریں۔

اسی بارے میں