مصر: عبوری کابینہ کی حلف برداری، قاہرہ میں جھڑپیں

Image caption مصر کی عبوری کابینہ میں تین خواتین وزراء بھی شامل ہیں

مصر میں جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد عبوری کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے اور نئی کابینہ میں فوج کے سربراہ جنرل ابوالفتح السیسی نائب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔

فوج کے سربراہ کے پاس عبوری کابینہ میں وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے جبکہ عبوری حکومت میں عظیم الببلاوی وزیراعظم ہیں۔

معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ترجمان نے عبوری حکومت کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کی حکومت برطرف کر کے آئین معطل کر دیا تھا۔ فوج کا موقف ہے کہ انھوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں اور عوام کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔

عبوری کابینہ کی حلف برداری کی تقریب سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔

فوج کے سربراہ جنرل السیسی کو عبوری کابینہ میں نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے۔ اُن کے پاس وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے۔

سابق صدر مرسی کی کابینہ میں وزیر داخلہ محمد ابراہیم بھی عبوری کابینہ میں شامل ہیں جبکہ نابل فہمی وزیر خارجہ اور شریف اسماعیل کو وزیر تیل بنایا گیا ہے۔

مصر کی عبوری کابینہ میں تین خواتین وزراء سمیت ایک عیسائی وزیر بھی شامل ہیں۔ عبوری کابینہ میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کے اراکین شامل نہیں ہیں۔

عبوری کابینہ میں شمولیت کی دعوت پر اخوان المسلمین نے کہا تھا کہ وہ عبوری کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔

اخوان المسلمین کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ’یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔‘

مصر میں عبوری حکومت آئندہ ہفتے تک ایک پینل تشکیل دی گی جو آئین میں ترامیم اور نئی انتخابات کا شیڈول بنائے گی۔

مصر میں عبوری کابینہ کی حلف برداری کے موقع پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔

دارالحکومت قاہرہ میں گزشتہ رات سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پیر کو جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سینکڑوں ناراض مظاہرین نے مرکزی پل کو بند کر دیا۔ تاہم بعد میں اس پل کو دوبارہ کھول لیاگیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر پھینکے اور ایک سڑک کو مختصر وقت کے لیے بند کر دیا۔

مصر کی فوج کے ترجمان کرنل احمد محمد علی نے کہا ہے کہ فوج مظاہرین کے خلاف غیر ضروری طاقت استعمال نہیں کر رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے جیمز رینولڈ سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ پرامن مظاہرے نہیں تھے۔ مظاہرین مسلح ہیں اور فوج کا کام ملک میں عسکری یونٹس کا دفاع کرنا ہے۔ مصر کی فوج کبھی بھی مصری عوام کے قتل کے لیے نئی بنائی گئی ہے۔‘

کرنل علی نے کہا کہ فوج نے اقتدار عبوری حکومت کو منتقل کر دیا ہے اور ’ہم اقتدار نہیں چاہتے ہیں۔‘

مصر میں تازہ جھڑپیں اس وقت ہوئی ہیں جب امریکی مندوب ولیم برنز نے مصر کا دورہ کیا ہے۔

’انھوں نے اپنے دورے کے موقع پر نے عبوری حکومت کے اراکین سمیت اخوان المسلمین کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔

ولیم برنر نے مصر میں گزشتہ دو ہفتے سے جاری کشیدگی کو ’انقلاب کے بعد کیے گئے وعدے پورے کرنے کے دوسرے موقع‘ سے تابیر کیا ہے۔

اسی بارے میں