جنوبی کوریا کا بھارت کو ’دھچکہ‘

پوسکو
Image caption منصوبے کی منسوخی کے بعد کرناٹک نے زمین کے حصول کے لیے فراہم کیے گئے ایک کروڑ ڈالر پوسکو کو لوٹا دیے

جنوبی کوریا کی کمپنی پوسکو نے بھارتی ریاست کرناٹک کے ساتھ سٹیل کا ایک منصوبہ تاخیر اور مقامی سطح پر مزاحمت کی وجہ سے منسوخ کر دیا ہے۔

پوسکو کے ریاست اڑیسہ میں اسی طرح کے ایک اور منصوبے کے خلاف بھی مظاہرے کیے گئے تھے لیکن بارہ ارب ڈالر کے اس منصوبے پر کام جاری ہے۔

پوسکو نے کہا ہے کہ اس نے کرناٹک میں مظاہروں کے بعد ساڑھے تین ارب پاؤنڈ کے مذکورہ منصوبے سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ کرناٹک میں اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول کے خلاف لوگوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین مقامی جنگلات اور زیرِ کاشت زمین بچانا چاہتے تھے۔

جنوبی کوریا کی کمپنی کے فیصلہ کو ماہرین انڈیا کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں کے لیے دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔

پوسکو اور کرناٹک کی حکومت کے درمیان ساٹھ لاکھ میٹرک ٹن فولاد پیدا کرنے کے اس منصوبے کے بارے میں تین سال قبل معاہدہ ہوا تھا۔ فولاد بنانے کے لیے ضروری خام لوہا مقامی طور پر حاصل کیا جانا تھا۔

منصوبے کی منسوخی کے بعد کرناٹک نے زمین کے حصول کے لیے فراہم کیے گئے ایک کروڑ ڈالر پوسکو کو لوٹا دیے ہیں۔

دریں اثناء اڑیسہ میں جس منصوبے پر کام جاری ہے وہ انڈیا میں غیر ملکی سرمایا کاری سے شروع ہونے والا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس سے پچاس ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ اس منصوبے کے لئے زمین خریدنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں