برطانیہ: ہتھیاروں کی برآمد پر پارلیمانی تنقید

Image caption کمیٹی نے برطانوی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مصر کے لیے موجودہ ایک سو چونتیس لائسنسوں پر نظرِ ثانی کرئے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک پالیسی برائے ہتھیاروں کی برآمد کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی

برطانیہ میں ارکانِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک جن میں انسانی حقوق کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، برطانوی حکومت نے ان ممالک کو فوجی ساز و سامان کی فروخت کے تین ہزار لائسنس جاری کیے ہیں۔

ایوانِ زیریں یعنی ہاؤس آف کامنز کی ہتھیاروں کی برآمدات کی نگراں کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ لائسنسز کے مطابق ایسے ستائیس ممالک کو کی جانے والی برآمدات کا کل حجم بارہ ارب پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

ان ممالک میں چین، ایران اور سعودی عرب شامل ہیں۔

کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سری لنکا کو کی گئی فروخت سے کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

ایوانِ زیریں کی ہتھیاروں کی برآمدات کی نگراں کمیٹی میں چار سیلیکٹ کمیٹیاں شامل ہیں اور یہ تمام کمیٹیاں مل کر کام کرتی ہیں۔ ان میں کمیٹی برائے خارجہ امور، دفاع، بزنس اور بین الاقوامی ترقی موجود ہیں۔

ہتھیاروں کی برآمدات کی نگراں کمیٹی کے چیئرمین سر جان سٹینلی نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں جاری کیے گئے لائسنسز کی تعداد اور مالیت پر حیران ہیں۔

ان لائنسنسوں میں مثال کے طور پر ایران کے لیے ساٹھ لائسنسز ہیں جن میں ایسی فوجی برقیات فروخت کی جا رہی ہیں جنہیں کرپٹوگرافی یعنی معلومات کے خفیہ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ساز و سامان چین کو بیچے گئے ایک اعشاریہ چار ارب پاؤنڈ میں بھی شامل ہے۔ چین کو فروخت کیے گئے سامان میں کچھ چھوٹے ہتھیار بھی شامل ہیں جبکہ یورپی یونین نے چین کو ہتھیار بیچنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

سر جان سٹینلینے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کی پابندی اس قدر مکمل نہیں جتنی بہت سے لوگوں کی خواہش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کو چھ سو رائفلوں اور دیگر چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت ’کئی سوالات اٹھاتی ہے۔‘

رپورٹ میں برطانوی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے لیے موجودہ ایک سو چونتیس لائسنسوں پر نظرِ ثانی کرئے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک پالیسی برائے ہتھیاروں کی برآمد کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔ اس پالیسی کے تحت ایسے حالات میں ہتھیاروں کی برآمد کے لائسنس جاری نہیں کیے جاتے جہاں پر خطے میں کسی کشیدگی کی ابتدا یا طول پکڑنے کا خطرہ ہو۔

کمیٹی نے اسرائیل کے حوالے سے بھی لائسنس کی تفصیلات طلب کیں ہیں جن کی مالیت سات اعشاریہ سات ارب پاؤنڈ ہے۔ یہ ایک لائسنس ان تمام میں سے پچاس فیصد سے زیادہ مالیت رکھتا ہے۔

کمیٹی نے اپنے ریمارکس میں لاطینی ملک آرجنٹینا کو بھی عسکری ساز و سامان کی تنقید کی۔

کمیٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دے اور اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ تمام کو ہتھیاروں کی فروخت برطانیہ کی اعلان شدہ پالیسیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔

اسی بارے میں