عدم تعاون سیلاب کی پیشگوئی میں رکاوٹ

Image caption بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں جون میں اچانک مون سون کے سبب آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی کمی سیلاب کی بروقت وارننگ کی راہ میں حائل ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو مون سون کے موسم میں جان و مال کی حفاظت ہو سکتی ہے۔

ان علاقوں میں غیر معین اور شدید بارش تباہ کن سیلاب کا سبب بن رہی ہیں اور حال ہی میں جون کے مہینے میں شمال مغربی بھارت اور نیپال میں زبردست بارش کے نتیجے میں آنے والا سیلاب اس کا ثبوت ہیں۔

تاہم پانی کے تنازعے کی وجہ سے آبی اعدادوشمار کا اشتراک ابھی تک حساس مسئلہ بنا ہوا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کے پار اعدادوشمار کے تبادلے کے لیے ایک نیٹ ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ماہرین اور حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کی پیش گوئی کے بارے میں اس خطے کے ممالک ایک دوسرے کو بہت کم تعاون کر رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے کے سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی نیپال کے دارچولا ضلع کے ضلعی سربراہ چرنجیبی ادھیکاری نے کہا ’ہمیں اس تباہ کن سیلاب کے بارے میں بھارت کی جانب سے کوئی وارننگ نہیں ملی۔‘

واضح رہے کہ نیپال کے اس ضلع کی سرحد بھارت کی سیلاب زدہ ریاست اتراکھنڈ سے ملتی ہے۔

بھارت اور نیپال کے درمیان سےگزرنے والی دریائے کالی میں سیلاب سے نیپالی علاقے میں 30 افراد ہلاک ہوئے اور ضلعی ہیڈکوارٹر کھلنگا میں کئی عمارتیں بہہ گئيں۔

جبکہ اس سیلاب میں بھارت کی جانب قریب ایک ہزار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور کئی ہزار افراد ابھی بھی لا پتہ بتائے جا رہے ہیں۔

چرنجیبی ادھیکاری نے بی بی سی کو بتایا ’سیلاب کی وجوہات جاننے کے لیے ہم لوگ ابھی تک ان (بھارتی حکام) سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان سے ٹیلی فون پر ابھی تک رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔‘

جنوب ایشیا کے مغربی علاقے میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بہنے والا دریائے کابل سنہ 2010 میں پاکستان میں زبردست سیلاب کا باعث بنا تھا۔

لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سیلاب کی پیش گوئی کے تعلق سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور اس وقت بھی اس کا فقدان ہے۔

پاکستان میں موسمیات شعبے کے سربراہ محمد ریاض نے اس بابت کہا ’دریائے کابل یقینی طور پر آج بھی ہمارے لیے خطرہ ہے لیکن افغانستان کے ساتھ بارش یا سیلاب کے سلسلے میں ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس ضمن میں فوری طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ منصوبہ بندی کی سطح پر ہی ہو سکتا ہے۔‘

اس خطے میں سب سے زیادہ بری طرح سے سیلاب کی زد میں آنے والے ملک بنگلہ دیش کو اوپری علاقے میں موجود نیپال میں جاری پانیوں کے متعلق کوئی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے جاتے۔

Image caption بنگلہ دیش جنوبی ایشا میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر رہنے والا ملک ہے

نیپال کے آبی اور موسمیاتی شعبوں کے حکام کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہم فیکس سے ڈھاکہ خبر بھیجا کرتے تھے لیکن اب سٹاف کی کمی ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے۔‘

پاکستان کو بھارت سے تھوڑے آبی اعدادوشمار ضرور موصول ہوتے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی ناکافی ہوتے ہیں کہ جس سے سیلاب کی بامعنی پیش گوئی کی جا سکے۔

محمد ریاض کا کہنا ہے ’مثال کے طور پر بھارت انڈس واٹر کمیشن (نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے کے تحت قائم کمیشن) کو اس وقت آگاہ کرتا ہے جب چناب ندی میں پانی کی سطح 75 ہزار مربع سنٹی میٹر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اور اس کی وجہ سے ہمیں جگہ کو چھوڑنے اور تیاری کرنے کا بہت کم موقع مل پاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ دریائے چناب دریائے سندھ کے بڑے معاون دریاؤں میں شامل ہے جو کہ تبت سے شروع ہو کر بھارت سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ کے پانی پر تنازع ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ جاری ہے۔

Image caption اتراکھنڈ میں حالیہ سیلاب میں ہزاروں افراد کے مارے جانے کا شبہہ ظاہر کیا جارہا ہے

محمد ریاض کا کہنا ہے کہ ’چناب کے معاون دریا جیسے جہلم، راوی اور ستلج جو کہ بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، ان کے متعلق آبی معلومات سے سیلاب کی بروقت پیش گوئی میں کافی مدد مل سکتی ہے۔‘

بنگلہ دیش کے حکام کا کہنا ہے کہ ’بھارت سے آبی معلومات کی شراکت میں کچھ پیش رفت ہوئي ہے کیونکہ اب انہیں دریائےگنگا سے متعلق تین ریڈنگ سٹیشنوں سے جبکہ دریائے برہم پتر کے متعلق چار جگہ سے اعدادوشمار مل رہے ہیں۔‘

بنگلہ دیش میں سیلاب کی وارننگ جاری کرنے والے دفتر کے سربراہ امیر الحسین نے کہا کہ ان کے ملک کو دریائے برہم پتر کے بارے میں تبت میں موجود چینی حکام سے بھی آبی اعدادوشمار ملتے رہتے ہیں۔

لیکن امیر الحسین نے کہا ’چونکہ ہمارے شہریوں کی یہ مانگ ہے کہ انہیں کم از کم سات دن پہلے سیلاب کے بارے میں خبر دی جائے اس لیے ہمیں یہ اعدادوشمار بھارت میں ذرا اور پہلے کے علاقے سے دی جائے تو پیش گوئی کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔‘

حکام کا کہنا کہ ابھی بنگلہ دیش کو جو اعداد شمار فراہم کیے جارہے ہیں وہ سرحد کے پاس والے علاقوں سے دیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آبی اعدادوشمار بھارت میں ایک حساس معاملہ ہے بطور خاص ریاستوں کے درمیان جو کہ اکثر پانی کی شراکت پر ایک دوسرے سے نبرد آزما رہتی ہیں۔

اسی بارے میں