اسرائیل جلد از جلد مذاکرات شروع کرے:اوباما

Image caption امریکہ جلد از جلد مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات کا احیاء چاہتا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات جلد از جلد شروع کرے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق انہوں نے یہ بات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران کہی۔

ادھر اسرائیل سے امن مذاکرات دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے فلسطین کے رہنماؤں کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں فلسطین کے صدر محمود عباس نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بجال کرنے کے لیے امریکی تجویز پر غور کیا۔

صدر اوباما کا یہ تازہ بیان خطے میں قیامِ امن کی کوششوں میں تیزی لانے کی امریکی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی اسی سلسلے میں ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور امریکی محکمۂ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کو فلسطینی اور اسرئیلی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

تاہم محکمۂ خارجہ نے تسلیم کیا ہے کہ جان کیری کے حالیہ دورے کے دوران امن مذاکرات کی بحالی میں کامیابی کا امکان کم ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان جن پاساکی نے کہا ’وہ جمعے کو فلسطین اور اسرائیل کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے لیکن فوری طور پر کسی بھی قسم کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔‘

عرب لیگ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دو سال پہلے نئی یہودی بستیوں کے معاملے پر التوا کا شکار ہوگئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا وہ سال دو ہزار دو میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ اقدام کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔

اس منصوبے میں اسرائیل کو پوری طرح تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے بدلے اسے سنہ 1967 میں جنگ کے دوران قبضہ میں لیا گیا تمام رقبہ واپس کرنا ہوگا اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سنہ انیس سو اڑتالیس کی قراردار کے مطابق حل کرنا ہوگا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ امن منصوبے میں تجویز کردہ شرائط پر رضامند نہیں ہے لیکن اس نے منصوبے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محممود عباس سے ملاقات کی تھی اور امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے تناظر میں فلسطین کو چار ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کی ہے۔

اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر امن مذاکرات میں شامل ہو گا۔

اسرائیل نےگزشتہ دنوں یورپ کی جانب سے منظور کردہ رہنما اصولوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا جس میں اسرائیل کے لیے یورپی امداد کو مقبوضہ علاقوں میں منصوبے روکنے سے مشروط کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں