فلسطین کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم ہیں: نیتن یاہو

Image caption امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل اور فلسطین کے امن مذاکرات جلد از جلد شروع کرنے پر زور دیا تھا

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بین یامین نیتن یاہو نے فلسطین کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کو ملک کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

انھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ مذاکرات بحال کرنی کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ مذاکرات سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ہوں گے۔

اس سے پہلے اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ چند فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

رہا کیے جانے والے قیدیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے تاہم ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 350 قیدیوں کو مہینوں کے دوران رہا کرنے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے تھے اور ان میں وہ 100 افراد بھی شامل تھے جو سنہ 1993 سے پہلے قید میں ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بنیادی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مذاکرات واشنگٹن میں ہوں گے تاہم انھوں نے معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں تھیں۔

حالیہ عرصے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات دوبارہ شروع کروانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے چھ دورے کیے ہیں۔

جان کیری نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ان مذاکرات کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے تفصیلات کو منظر عام پر نہ لایا جانا ہی بہتر ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے اس علان کے بعد سنیچر کو اسرائیل نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کے حوالے سے جان کیری کے ساتھ کیے گئے وعدے کے تحت چند فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات کے وزیر یووال شٹائنٹز کا کہنا تھا کہ رہا کیے جانے قیدیوں میں کئی دہائیوں سے قید چند اہم نام بھی شامل ہوں گے۔

یووال شٹائنٹز نے اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ معاہدہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے طے کردہ قوائد کے تحت ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی مرحلہ وار کی جائے گی۔

اسرائیل کے انسانی حقوق سے متعلق ایک گروپ کا کہنا ہے اسرائیل کی مختلف جیلوں میں 4,817 فلسطینی قید ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر امن مذاکرات میں شامل ہو گا۔

اسی بارے میں