مصر: محمد مرسی کے حامیوں کے مظاہرے جاری

Image caption ملک کے دیگر شہروں میں بھی محمد مرسی کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

قاہرہ میں ہزاروں افراد مسجد الداویہ کے باہر جمع ہوئے جو کہ کئی ہفتوں طویل مظاہروں کی جائے وقوع ہے۔

قاہرہ کے تحریر سکوائر میں بھی معزول صدر کے حامی اکٹھے ہوئے ہیں تاہم ان کی تعداد قدرے کم ہے۔

مصری میڈیا کے مطابق شہر منصورہ میں اس سلسلے میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک تیرہ سالہ بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں۔ اس سے قبل محمد مرسی کے 50 سے زائد حامی اس عمارت کے باہر جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے جہاں شبہ ہے کہ سابق صدر کو رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق سینیئر اہلکار مصر کی عبوری حکومت پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ بتائیں کہ محمد مرسی کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر مقدمہ کب چلایا جائے گا۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔ انھیں ایک خفیہ مقام پر زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔

ان کی جماعت اخوان المسلمین نے اس اقدام کو فوجی بغاوت قرار دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ ناوی پلے کا کہنا ہے کہ انھوں نے دس جولائی کو مصر کے سفیر سے بات کی تھی اور مصری حکام کو لکھے ایک خط میں انھوں نے زیرِ حراست افراد کے بارے میں معلومات مانگی تھیں۔

ناوی پلے نے معزول صدر کے حامیوں کے مظاہروں میں پچاس افراد کی ہلاکت کے بارے میں بھی تفصیلات مانگی ہیں۔

فوج اور مظاہرین، دونوں ایک دوسرے پر تشدد شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک ٹیم واقعات کی تحقیقات کرنے کے لیے مصر روانہ ہونے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہی ہے۔

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے۔

مظاہروں میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’میں قانون کی پاسداری کے لیے آیا ہوں، صدر مرسی کے لیے نہیں۔ انھوں نے میرا ڈالا ہوا ووٹ چوری کیا ہے۔‘

ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اگر خدا نے چاہا تو محمد مرسی دوبارہ صدر بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر میں عوام کی جیت ہوگی۔

اخوان المسلمین کے مظاہروں کے ایک منتظم کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی تعداد توقعات سے کہیں زیادہ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بغاوت کو تباہ کرنے کا ایک پرامن طریقہ ہے۔ عوام کے مطالبات پورے ہوں گے اور کوئی بھی ادارہ عوام کی رضا چھین نہیں سکتا۔‘

ملک کے دیگر شہروں میں بھی محمد مرسی کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ، جرمنی اور اقوام متحدہ نے مصر کی فوج سے کہا ہے کہ برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کو رہا کر دیا جائے۔

فوج کا موقف ہے کہ انھوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں اور عوام کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے عوام سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ تشدد اور افراتفری پھیلانے والے عناصر سے ملک کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد عبوری کابینہ نے حلف اٹھایا ہے لیکن اخوان المسلمین کے مصر میں عبوری کابینہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

اخوان المسلمین کے ترجمان نے کہا تھا ’یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے۔‘

اخوان المسلمین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے انھیں یورپی یونین کی پشکش قبول ہے لیکن وہ مذاکرات کے دوران بھی مظاہرے ختم نہیں کریں گے۔

جماعت کے ترجمان نے یورپی یونین کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد کہا ’(صدر مرسی) کی بحالی کی قانونی حیثیت پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

صدر مرسی کی برطرفی کے بعد اخوان المسلمین نے پہلی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش قبول کی ہے۔

اسی بارے میں