ڈیٹرائٹ کی دیوالیہ قرار دیے جانے کی درخواست

امریکہ کی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ نے دیوالیہ قرار دیے جانے کی درخواست امریکی عدالت میں جمع کروائی ہے اور وہ اس قسم کی درخواست کرنے والا اب تک کا سے بڑا امریکی شہر ہے۔

ڈیٹرائٹ کی انتظامیہ کو قرض اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں کم از کم اٹھارہ ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔

ریاست کے ایمرجنسی افسر نے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں استدعا کی ہے کہ شہر کو دیوالیہ قرار دیا جائے۔

عدالت کی جانب درخواست کے منظور ہونے سے شہری حکومت قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنے اثاثے فروخت کر سکتی ہے۔

ڈیٹرائٹ کی انتظامیہ نے شہر کے معمولات چلانے کے لیے گزشتہ ماہ سے قرضوں کی ادئیگی روک دی تھی۔

مشی گن کے گورنر ریک سنیڈر نے ڈیٹرائٹ کی انتظامیہ کو دیوالیہ ہونے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کرنے کی اجازت دی۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں مالیاتی بحران پر دیوالیہ ہونے کی درخواست کے بغیر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ مشی گن کے گورنر نے کہا ’ہمارے پاس یہی ایک متبادل موجود ہے۔‘

ریاست کے ایمرجنسی افسر کے مطابق ڈیٹرائٹ کا طویل مدتی قرضہ سترہ سے بیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ڈیٹرائٹ موٹر سازی کی صنعت کے لیے مشہور ہے اور اسی وجہ سے اسے گاڑیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی صنعتوں میں کمی کے باعث ڈایٹرائٹ کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ٹیکس محصولات میں کمی اور جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں ڈیٹرائٹ کی شہری حکومت کو بدعنوانی کے سکینڈلز کا سامنا بھی رہا ہے اور سٹریٹ لائٹ پر کی جانے والی سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے پولیس کو شہر میں امن و امان قائم کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

ڈایٹرائٹ کے دیوالیہ ہونے میں دیگر وجوہات کے ساتھ ایک اہم وجہ شہر کی آبادی میں مسلسل کمی ہے۔ سنہ 2000 سے 2010 کے دوران تقریباً ڈھائی لاکھ رہائشیوں نے شہر سے نقل مکانی کی ہے۔

حالیہ عرصے میں ڈیٹرائٹ دیوالیہ ہونے کی درخواست دائر کرنے والا امریکہ کا پہلا شہر نہیں۔ اس سے پہلے ریاست کیلیفورنیا کے تین شہروں نے بھی دیوالیہ ہونے کی درخواست دائر کی تھی۔

اسی بارے میں