شامی تنازعے کا حل تعطل کا شکار ہے: کیمرون

Image caption برطانیہ کے فوجی جرنیلوں نے شام کے باغی گروپوں کو مسلح کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شامی تنازعے کا حل تعطل کا شکار ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری رہنی چاہییں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں صدر بشارالاسد کی حکومت ممکنہ طور مضبوط ہوئی ہے لیکن شامی حزبِ اختلاف کو مضبوط کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری طرف برطانیہ کے فوجی جرنیلوں نے شام کے باغی گروہوں کو مسلح کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

برطانیہ میں شامی حزبِ اختلاف کے بعض گروہوں کی کارروائیوں اور ان کے خیالات کی وجہ سے پائے جانے والے خدشات کے باوجود ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں میں بہت شدت پسند عناصر ہیں لیکن اعتدال پسند دھڑے حمایت کے حق دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان شامی گروہوں کی مدد کرے جو ایک ’جمہوری اور آزاد ‘ملک کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’آپ کو شامی حزبِ اختلاف کے درمیان موجود شدت پسند عناصر پر اعتراض ہے جن سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم ان سے رابطے ہی ختم کر دیں اور اپنی ذمہ داری نہ نبھائیں۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے کہا: ’ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان لاکھوں شامی باشندوں کی مدد کرنی چاہیے جو ایک آزاد اور جمہوری شام چاہتے ہیں اور جو اپنے ملک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

واشنگٹن اور لندن شامی حزبِ اختلاف کو نقل و حمل میں مدد دینے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

برطانیہ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ شامی حزبِ اختلاف کو کیمیائی اور حیاتیاتی حملوں سے بچنے کے لیے ساڑھے چھ لاکھ پاؤنڈ مالیت کے ملبوسات بھیج رہے ہیں۔

دوسری طرف بعض اطلاعات کے مطابق سیاسی مخالفت اور غلط ہاتھوں میں ہتھیار جانے کے خدشات کی وجہ سے شامی حزبِ اختلاف کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے حمایت میں کمی آئی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مہاجرین کا معاملہ گذشتہ بیس سال کے دوران سب سے بد ترین مسئلہ ہے جس میں اس سال روزانہ چھ ہزار افراد بے گھر ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں