مصر:’مرسی کو فوج نے اغوا کیا ہے‘

Image caption محمد مرسی معزول ہونے کے بعد سے نامعلوم مقام پر قید ہیں

مصر کے معزول کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے اہلخانہ نے ملک کی فوج پر انہیں اغواء کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

محمد مرسی کی بیٹی شائمہ نے پیر کو قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کا خاندان فوج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے انہیں بغیر کوئی الزام عائد کیے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

ان کی جماعت اخوان المسلمین نے اس اقدام کو فوجی بغاوت قرار دیا تھا اور اب ان کے خاندان کا بھی کہنا ہے کہ وہ سابق صدر کے ’تحفظ‘ کے لیے فوج کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

یہ محمد مرسی کی معزولی کے بعد ان کے اہلخانہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا پہلا بیان ہے۔

شائمہ مرسی نے کہا کہ ’ہم خونی فوجی بغاوت کے قائد عبدالفتح السیسی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔‘

فوج کے سربراہ جنرل السیسی کو ملک کی نئی عبوری کابینہ میں نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے اور اُن کے پاس وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے۔

سابق صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے ملک میں فوج کی حمایت یافتہ نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور وہ ان کی رہائی کے لیے قاہرہ میں تقریباً روزانہ ہی مظاہرے کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق سینیئر اہلکاروں نے بھی مصر کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بتائے کہ محمد مرسی کو کیوں گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ کب چلایا جائے گا۔

امریکہ اور جرمنی نے بھی مصر کی فوج سے کہا ہے کہ محمد مرسی کو رہا کر دیا جائے۔

خیال رہے کہ مصر میں پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر برطرف کیے جانے والے صدر اور ان کی جماعت اخوان المسلیمن کے بعض اراکین کے خلاف شکایات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

تیرہ جولائی کو پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسے جاسوسی، مظاہرین کو ہلاک کرنے پر اکسانے، فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہچانے کی شکایت موصول ہوئی ہیں۔ تاہم پبلک پراسیکیوٹر نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ شکایات کس نے دائر کی ہیں۔

اسی بارے میں