وہ جو چار ماہ سے ایئرپورٹ میں’قید‘ ہے

Image caption محمد الباہیش اپنی قزاقستانی گرل فرینڈ اولیسيا گرشیكو سے شادی کرنا چاہتے تھے

اس اختتام ِ ہفتہ پر امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو ماسکو کے ہوائی اڈے میں رہتے ہوئے چار ہفتے ہوگئے ہیں لیکن وہاں سے دو ہزار میل دور قزاقستان میں ایک نوجوان گزشتہ چار ماہ سے ایک ایئر پورٹ کے ٹرانزٹ ایریا میں پھنسا ہوا ہے۔

عراق میں پیدا ہوئے 26 سالہ محمد الباہیش بنیادی طور پر فلسطینی شہری ہیں۔

گذشتہ 120 دن سے وہ قزاقستان کے الماٹي بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اس علاقے میں ہیں جسے ’ٹرانزٹ ایریا‘ کہتے ہیں، لیکن وہ نہ مسافر ہیں نہ ہی ایئرپورٹ عملے کے رکن۔

الباہیش کو ہوائی اڈے میں ڈیوٹی فری شاپ یا کیفے تک جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

وہ قزاقستان میں داخل نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے پاس ویزا نہیں ہے اور اس لیے وہ کسی اور ملک میں بھی نہیں جا سکتے۔

اسرائیل نے انہیں فلسطین میں داخل ہونے نہیں دے گا اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کیونکہ ان کے عراق میں کوئی رشتہ دار زندہ نہیں ہیں، اس لیے اپنے ملکِ پیدائش میں لوٹنا ان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

ہوائی اڈّے کے ایک کمرے میں الباہیش ہر روز خاتون اناؤنسر کی آواز کے ساتھ اٹھتے ہیں جو پروازوں کی تفصیلات دے رہی ہوتی ہے۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ الباہیش انہیں دیکھتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔

کمرے میں ایک بستر ہے، ایک پھٹا پرانا صوفہ ہے اور دیوار سے لگی میز پر لیپ ٹاپ کے ساتھ ہی ایک قرآن رکھا ہے۔

کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے اور یہ سگریٹ کی بدبو میں رچا ہوا ہے۔ الباہیش کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ میں تھوڑا سا پاگل ہو رہا ہوں۔‘

الباہیش کی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں قزاقستان کی قومی ایئر لائن، ایئر استانا کے مسافروں کو دیا جانے والا کھانا دیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’وہ دن میں تین بار مجھے ہوائی جہاز کا کھانا دیتے ہیں۔ سلاد اور کیک کے چھوٹے چھوٹے ڈبے۔ پورے تین مہینے تک میں نے گوشت اور مشروم سٹرگنف کھایا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں پھر کبھی گوشت كھاؤں گا۔‘

کمرے کے باہر ایئرپورٹ سکیورٹی کا عملہ ان کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے۔ کبھی، کبھی انہیں ایئرپورٹ میں واقع کوفی کی دکان تک جانے کی اجازت ملتی ہے اور کبھی کبھی عملہ کے لیے بنائے غسل خانوں تک جانے کی۔

وہ جہاں بھی جاتے ہیں، پولیس یا سیکورٹی اہلکار ان کے ساتھ جاتے ہیں۔

دنیا کے ساتھ ان کا رابطہ صرف تبھی ہو پاتا ہے جب ہوائی اڈے کا غیر مستحکم سا انٹرنیٹ کنکشن ٹھیک ہو جائے اور تب وہ اسکائپ استعمال کرتے ہیں۔

الباہیش کہتے ہیں ’میں ناروے میں رہنے والے اپنے ایک رشتے دار سے بات کرتا ہوں۔ میرے خاندان میں ان کے سوا کوئی نہیں ہے۔‘

استنبول اور الماتي

دراصل اپنی فیملی بنانے کی خواہش ہی الباہیش کو قزاقستان لے آئی تھی۔

وہ اپنی قزاقستانی گرل فرینڈ اولیسيا گرشیكو سے شادی کرنا چاہتے تھے، جو اس وقت ان کے پہلے بچے کی ماں بننے والی ہیں۔

دونوں کی ملاقات دبئی میں ہوئی تھی۔ الباہیش وہاں بطور ڈیزائنر کام کر رہے تھے اور گرشیکو وہاں چھٹیاں منانے آئی تھیں۔

قزاقستان میں اپنی شادی کی رجسٹریشن کروانے کے دوران الباہیش کے بطور پناہ گزین سفری دستاویزات کھو گئے اور ان کے قزاقستان اور دبئی کے ویزوں کی مدت ختم ہو گئی۔

اس کے بعد وہ ترکی گئے تاکہ قزاقستان کے ویزے کی تجدید کروا سکیں لیکن انہیں سرحد سے لوٹا دیا گیا۔

وہ کہتے ہیں ’درست ویزہ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے استنبول سے لوٹا دیا گیا اور میں واپس الماٹي آ گیا۔ چونکہ میرے پاس یہاں کا بھی ویزا نہیں تھا اس لیے یہاں سے مجھے واپس استنبول بھیج دیا گیا۔ میں چار مرتبہ دونوں شہروں کے درمیان سفر کر چکا ہوں۔‘

قزاقستان نے انہیں ہوائی اڈے کے ٹرانزٹ ایریا میں رکھا ہوا ہے جو کہ قانونی طور پر قزاقستان کا علاقہ نہیں۔

گذشتہ ماہ قزاقستان کے حکام نے پناہ دینے کی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

الباہیش کہتے ہیں کہ جب سے وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں ان کے دماغ میں صرف ایک ہی بات آتی ہے کہ یہاں سے کیسے نکلا جائے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے سورج کی روشنی کی کمی محسوس ہوتی ہے، مجھے بیرونی دنیا کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے لوگوں کو اس عمارت سے باہر نکلتے دیکھتا ہوں لیکن میں یہاں پھنسا ہوا ہوں۔ میں کہیں نہیں جا سکتا۔ ‘

الباہیش کہتے ہیں ’میں یہاں آتا ہوں تو مجھے غصہ آنے لگتا ہے۔ کیونکہ مجھے سچ مچ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں جیل میں ہوں۔‘

اسی بارے میں