افغانستان:حملے میں تین ایساف فوجی ہلاک

Image caption صرف رواں سال سنہ دو ہزار تیرہ میں ہی مختلف حملوں میں ایساف فورسز کے سو اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

مشرقی افغانستان میں ہونے والے ایک بم حملے میں نیٹو کے تین اہلکار اور ایک افغان شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ صوبہ ودرک میں پیش آیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور گدھے پر سوار تھا اور جب افغان اور بین الاقوامی فوجیوں کا ایک قافلہ اس کے قریب سے گزرا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

صوبہ ودرک کے گورنر کے ترجمان کے مطابق اس حملے میں تین غیر ملکی فوجیوں کے علاوہ ان کا افغان مترجم بھی ہلاک ہوا ہے۔

رواں سال جون کے مہینے میں نیٹو نے ملک کی سکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کر دی ہے تاہم اب بھی ستانوے ہزار غیرملکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

صرف رواں سال سنہ دو ہزار تیرہ میں ہی اب تک مختلف حملوں میں ایساف فورسز کے تقریباً ایک سو اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

سنہ دو ہزار بارہ میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں نیٹو فورسز کے ساٹھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ایساف فوج میں اس وقت پچاس ممالک کے فوجی اہلکار شامل ہیں اور ان میں زیادہ تر امریکی فوجی ہیں جن کی تعداد اڑسٹھ ہزار ہے۔

سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک تمام غیر ملکی جنگی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے جبکہ افغان حکومت کی منظوری کے بعد قلیل تعداد میں غیر ملکی فوجی مقامی فورسز کی تربیت کے لیے وہاں رکیں گے۔

تاحال امریکی صدر براک اوباما نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ دو ہزار چودہ کے بعد کتنی تعداد میں فوجی اہلکار افغانستان میں موجود رہیں گے۔

اسی بارے میں