عراق:’قیدیوں کے فرار میں جیل محافظ ملوث‘

Image caption عراقی حکام نے ابتدا میں کسی قیدی کے فرار ہونے سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ‘ قیدی فرار ہوئے ہیں

عراق کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو بغداد کے قریب واقع دو جیلوں پر حملے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات میں جیل محافظین ملوث تھے۔

وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں حملہ آوروں نے باہر سے جیلوں پر مارٹر گولے برسائے، وہیں جیل کے اندر قیدیوں نے بلوہ کر دیا۔

اس سے پہلے القاعدہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب واقع دو جیلوں پر مسلح افراد کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ عراقی پارلیمان کے سینیئر رکن حکیم الزمیلی کا کہنا تھا کہ صرف ابوغریب جیل سے 500 قیدی فرار ہوئے اور ان میں سے بیشتر القاعدہ کے اہم ارکان تھے جنہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔‘

منگل کو انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں القاعدہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قیدیوں کو رہا کروانے اور عدلیہ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کی آخری کڑی ہے۔

القاعدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے ان حملوں کی تیاری میں کئی ماہ لگائے اور فرار ہونے والوں میں تقریباً پانچ سو افراد تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند تھے۔

جیلوں پر کنٹرول کی اس لڑائی میں کم از کم بیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ابو غریب جیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کے دور میں اسے حکومت کے مخالفوں پر تشدد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔اسی جیل میں قید عراقیوں سے امریکی اہلکاروں کی بدسلوکی کی تصاویر 2004 میں سامنے آئی تھیں۔

عراقی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے جیلوں پر حملہ کیا۔

ان مسلح افراد نے دونوں جیلوں پر پہلے تو مارٹر گولے پھینکے اور پھر ان کے داخلی دروازے پر کار بموں کے دھماکے کر کے اندر داخل ہوگئے۔

حکام کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے صورتحال پر پیر کی صبح تک ہی قابو پایا جا سکا۔

عراقی حکام نے ابتدا میں کسی قیدی کے فرار ہونے سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ‘ قیدی فرار ہوئے ہیں۔

عراقی وزیر وصام الفراجی کا کہنا ہے کہ حملہ آور بہترین ہتھیاروں سے لیس تھے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’صرف تاجی جیل پر حملہ کرنے والوں میں نو پیدل خودکش حملہ آوروں کے علاوہ بارود سے بھری تین کاروں پر سوار حملہ آور بھی شامل تھے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حملہ آوروں نے سو سے زائد مارٹر گولے بھی پھینکے۔‘

عراق میں ماہِ رمضان کے آغاز سے اب تک دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق اپریل سے اب تک ایسی ہلاکتوں کی تعداد 2500 ہے۔

اسی بارے میں