شام میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز

Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ شام میں ہلاکتوں کی صحیح تعداد اصل سے کم اندازوں پر مشتمل ہے کیونکہ شام میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع نہیں دی جاتی

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ شام کے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق صرف گذشتہ ماہ شام میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے۔

بان گی مون نے یہ بات جمعرات کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں کہی جہاں امریکی وزیِر خارجہ جان کیری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

دونوں رہنماؤں نے شام کے مسئلے کا سیاسی حل جلد تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بان گی مون نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے امن کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل بھی کی۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ شام میں ہلاکتوں کی صحیح تعداد اصل سے کم اندازوں پر مشتمل ہے کیونکہ شام میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع نہیں دی جاتی۔

شام میں جاری بحران کے باعث مزید 17 لاکھ شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ اعلان شام کے دارالحکومت دمشق سے موصول ہونے والی ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا کہ ایک کار بم حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔

شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جرامانا کے مضافات میں پیش آیا جہاں صدر بشارالاسد کے حامیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔

اسی بارے میں