مصر کو ایف سولہ جہازوں کی فراہمی روک دی گئی

Image caption امریکہ نے مصر کو بیس ایف سولہ لڑاکا طیارے دینے کا معاہدہ کیا ہے جس میں آٹھ فراہم کیے جا چکے ہیں

امریکہ نے مصر کو چار ایف سولہ جنگی جہاز کی فراہمی روک دی ہے۔

امریکہ نے یہ اقدام مصر میں صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد اٹھایا ہے۔

مصر کو ایف سولہ طیارے ملیں گے:امریکی حکام

امریکہ محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جارج لِٹل کے مطابق’مصر میں موجودہ صورتحال‘ کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے ٹیلی فون کے ذریعے اس فیصلے کے بارے میں مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی کو آگاہ کر دیا ہے۔

امریکہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا صدر مرسی کو اقتدار سے الگ فوجی بغاوت تھی اور اگر ایسا ہے تو قانون کے تحت مصر کی امداد رک سکتی ہے۔

اس سے پہلے رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو امریکی حکام نے کہا تھا کہ مصر کو چار جدید ترین ایف سولہ طیارے شیڈول کے مطابق فراہم کر دیے جائیں گے تاہم اب امریکہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ مصر کو جنگی جہازوں کی فراہمی روکی جا رہی ہے۔

مصر نے امریکہ سے بیس ایف سولہ جنگی جہاز خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے جن میں سےآٹھ پہلے ہی اسے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کمِ گاٹیس کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے منگل کو قومی سلامتی سے متعلق ٹیم کی تجاویز پر مصر کو جنگی جہازوں کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے مصری فوج سے مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر مصر میں حالیہ واقعات پر ناگواری کا اظہار کیا ہے۔

Image caption عوام جمعہ کو سڑکوں پر نکل کر ’دہشت گردی ‘ کے خلاف مظاہرہ کریں: جنرل السیسی

ایک اندازے کے مطابق امریکہ کی جانب سے مصر کو سالانہ ایک ارب تیس کروڑ کی فوجی امداد دی جاتی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جمعہ کو سڑکوں پر نکل کر ’دہشت گردی ‘ کے خلاف مظاہرہ کریں۔

جنرل عبدالفتح السیسی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ فوج کو تشد اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا اختیار دیں۔

صدر مرسی کے حامی تین جولائی کو فوجی مداخلت کے بعد انہیں اقتدار سے ہٹائے جانے کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

تاہم جنرل عبدالفتح السیسی جو نئی حکومت میں وزیرِ دفاع بھی ہیں،کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں میں تشدد نہیں چاہتے بلکہ قومی مصالحت چاہتے ہیں۔

2012 میں صدر مرسی کے الیکشن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں نے اسلام پسندوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ صدارتی امیدوار نامزد نہ کریں لیکن انہوں نے میرے مشورے کو نظر انداز کر دیا‘۔

خیال رہے کہ مصر میں جب سے فوج نے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کیا ہے اس وقت سے ہنگامے جاری ہیں۔

معزول صدر کے حامیوں اور محالفین کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں