متاثرہ افراد کے دکھ میں شریک ہیں: جون کارلوس

Image caption اس حادثے پر افسوس کے لیے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

سپین کے بادشاہ جون کارلوس نے کہا ہے کہ وہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں ٹرین کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہیں۔

سپین کے بادشاہ نے یہ بات جمعرات کو سینتیاگو کومپوستیلا میں ہسپتال میں زیرِعلاج ٹرین کے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات میں کہی۔

یاد رہے کہ بدھ کی رات سینتیاگو کومپوستیلا کے قریب ہونے والے اس حادثے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جن میں سے 32 شدید زخمی ہیں۔

حادثے میں ہلاک اور خمی ہونے والے افراد میں کئی ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں پانچ امریکی اور ایک برطانوی شہری زخمی اور ایک امریکی ہلاک ہوگئے ہیں۔

حادثے میں زخمی ہونے والوں اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جون کارلوس کے ساتھ ملکہ صوفیا بھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ’سپین کے عوام حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ غم میں شریک ہیں۔‘

انھوں نے حادثے کے موقع پر امدادی کارکنوں کے کارکردگی کی بھی تعریف کی۔

سپین کے وزیرِاعظم ماریانو رجوائے نے جن کا تعلق حادثے والے شہر سینتیاگو کومپوستیلا سے ہے جمعرات کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ’ سینتیاگو کومپوستیلا کے رہائشی باشندہ ہونے کی حیثیت سے یہ میرے لیے افسوس ناک دن ہے۔‘

انھوں نے اس حادثے پر افسوس کے لیے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ ٹرین کے حادثے کے بعد ایک ڈرائیور کے خلاف باضابطہ طور پر تفتیش کی جا رہی ہے اور ٹرین کا بلیک باکس تحقیقات کے انچارج جج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

گالیسیا کی سپریم کورٹ کی خاتون ترجمان نے کہا کہ ڈرائیور زیرِتفتیش ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا اشارہ ٹرین کے دو ڈرائیوروں میں سے کس کی جانب ہے۔

دریں اثنا ٹرین کی بگیوں کو بھی کرینز کی مدد سے جائے وقوعہ سے ہٹا کر تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

Image caption ٹرین کی بگیوں کو بھی کرینز کی مدد سے جائے وقوعہ سے ہٹا کر تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے

ریلوے کے سربراہ رینفے ہولیو پومار نے اخبار ال منڈو کو بتایا کہ 52 سالہ ڈرائیور کا 30 سالہ تجربہ تھا اور وہ اس لائن پر گذشتہ ایک برس سے ٹرین چلا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ حادثہ کسی تکنیکی وجہ سے نہیں ہوا۔

تاہم ہسپانوی میڈیا نے نامعلوم تفتیشی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک ڈرائیور نے حادثے کی تھوڑی دیر بعد بتایا کہ ٹرین جب موڑ مڑنے لگی تو اس وقت اس کی رفتار 190 کلومیٹر فی گھنٹا تھی، حالاں کہ حدِرفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹا تھی۔

میڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام برج کہتے ہیں کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حادثے کی وجہ ڈرائیور کی غلطی تھی یا ٹرین کے نظام کی خرابی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سپین نے اپنے ریلوے نیٹ ورک پر بڑی مقدار میں پیسہ لگایا ہے، اور ان ٹرینوں کی سلامتی کا ریکارڈ نسبتاً اچھا ہے۔

یہ حادثہ بدھ کی رات کو اس وقت پیش آیا تھا جب میڈرڈ سے فیرول جانے والی ٹرین کی تمام آٹھ بوگیاں سینتیاگو دی کومپوستیلا شہر کے قریب الٹ گئی تھیں۔

اس ٹرین پر 218 مسافر سوار تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپین میں گذشتہ 40سال کے دوران یہ ٹرین کا بدترین حادثہ ہے۔

اسی بارے میں