خلیجِ میکسیکو تیل رساؤ: ہالیبرٹن کا اعترافِ جرم

Image caption ہالیبرٹن کو دوسرے کمپنیوں کے ساتھ تیل کے رساؤ کے معاملے میں بھی مقدمے کا سامنا ہے

امریکہ کی کمپنی ہالیبرٹن نے خلیج میکسیکو میں دو ہزار دس میں ہونے والے تیل کے رساؤ کے حوالے سے شواہد ختم کرنے کا اعترافِ جرم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

اس اعتراف کا جس کی عدالت تصدیق کرے گی مطلب ہے کہ ہالیبرٹن کو زیادہ سے زیادہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

تیل کے رساؤ کا یہ واقعہ بیس اپریل 2010 کو خلیجِ میکسیکو میں اس وقت پیش آیا تھا جب برٹش پیٹرولیم (بی پی) کی ایک رگ جسے سمندر کی تہہ میں سوراخ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکے سے ٹوٹ گئی تھی۔اس واقعے میں گیارہ کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

برٹس پیٹرولیم نے ہاسٹن میں قائم اپنے ٹھیکہ دار کمپنی ہالیبرٹن پر تیل کے رساؤ کے حوالے سے شواہد ضائع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انھیں تاوان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہالیبرٹن نے ایک بیان میں کہا کہ’ہالیبرٹن کی ایک ذیلی کمپنی ماکونڈو کنویں میں تیل کے رساؤ کے واقعے کے بعد جمع ریکارڈ ختم کرنے کا اعترافِ جرم کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ کمپنی نے اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ یعنی دو لاکھ امریکی ڈالر ادا کرنے اور تین سال تک پروبیشن یا آزمائشی طور پر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔‘

ہالیبرٹن تیل کے رساؤ کے اس واقعے میں مجرمانہ کردار ادا کرنے ذمہ داری قبول کرنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔ اس سے پہلے برٹس پیٹرولیم اور ٹرانسو اوشین نے اس تباہی کے حوالے سے ان پر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ تیل کے رساؤ کے واقعے سے پہلے ہالیبرٹن نے بی پی کو مشورہ دیا تھا کہ ماکونڈو کنویں میں 21 سنٹرلائزرز یا دھات کا مواد ہے جو جوڑ کو مضبوط کرتا ہے۔

تاہم بی پی نے صرف چھ کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی محکمۂ انصاف نے کہا کہ ہالیبرٹن نے 21 کے مقابلے میں 6 سنٹرلائزرز کے استعمال کے اثر کو دیکھنے اور ماکونڈو کنویں کے مضبوطی کے حوالے سے دو کمپیوٹر پروگرام چلائے۔

کمپیوٹر کے پرگرام کے نتائج سے پتہ چلا کہ دونوں میں بہت کم فرق تھا۔

محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ہالیبرٹن کے پروگرام مینیجر کو ’ہدایت کی گئی کہ وہ ان کمپیوٹر پروگراموں کو ختم کرے جو انھوں نے ختم کر دیے۔‘

ہالیبرٹن کو دوسرے کمپنیوں کے ساتھ تیل کے رساؤ کے معاملے میں بھی مقدمے کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں