مصر: مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری، ہلاکتیں کم از کم 65

Image caption صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے بڑے جلوس نکالے ہیں

مصر کی حکومت کی تنبیہ کے باوجود قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے، جب کہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 65 ہو گئی ہے۔

اس سے قبل مصری وزیرِ داخلہ نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو تنبیہ کی تھی کہ ان کے دھرنے کو ’جلد ہی‘ منتشر کر دیا جائے گا۔

وزیر محمد ابراہیم نے کہا کہ مظاہرین جس مسجد میں جمع ہیں اس کے قریب رہنے والے لوگوں نے شکایتیں درج کروائی ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس مظاہرین کو مسجد سے نکالنے کا قانونی جواز موجود ہے۔

تاہم اب بھی ہزاروں افراد رابعہ العدویہ مسجد میں جمع ہیں۔

تصاویر: مصر میں پرتشدد مظاہرے

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا اختیار دیں: مصری فوج

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام کو فون کر کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی سے فون پر بات کی ہے۔

سنیچر کو اس علاقے میں فوج اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ البتہ وزارتِ صحت نے مرنے والوں کی تعداد 65 بتائی ہے۔

مرسی کے جماعت اخوان المسلمون نے ان ہلاکتوں کا الزام فوج پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجیوں نے گولی مار کر مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔

حکومت نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی افواج نے گولیاں نہیں بلکہ صرف آنسو گیس استعمال کی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کونٹن سمرول کہتے ہیں کہ زخمیوں کے زخموں کی شدت اور نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بات غلط نظر آتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آنسو گیس، شاٹ گن کے کارتوس اور گولیوں سمیت جھڑپوں میں ہر چیز استعمال کی گئی ہے۔

معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے رات بھر دارالحکومت میں مظاہرے جاری رکھے۔

اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ ان کے سینکڑوں حامی مصری فوج کے ساتھ تصادم میں زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شمالی قاہرہ میں اخوان المسلمین کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کو توڑنے کی کوشش میں تصادم شروع ہوا۔

اخوان المسلمین کے حامیوں نے ایک ویڈیو میں متعدد زخمیوں کو عارضی ہسپتال لے جاتے ہوئے دکھایا ہے۔ یہ عارضی ہسپتال دھرنے والی جگہ کے پاس ہی ایک مسجد میں بنایا گيا ہے۔

اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے سکیورٹی فورسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’وہ زخمی کرنے کے لیے نہیں بلکہ مارنے کے لیے فائر کرتے ہیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 70 فیصد افراد پر براہ راست گولیاں چلائیں گئیں اور زیادہ تر متاثرین کو چھتوں سے نشانہ باندھ کر براہ راست سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں ہیں۔

اخوان المسلمین کے سینیئر رہنما سعدالحسینی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے مسجد کا علاقہ خالی کرانے کی کوشش تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں پانچ گھنٹوں تک جوانوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہیں کر سکا۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خون کی قربانی دی ہے اور پسپا نہیں ہونا چاہتے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کے حامی فوج کے نئے کردار پر اور بالخصوص جنرل عبدالفتح السیسی پر برہم ہیں جو ان کے مطابق مصریوں کو قتل کر رہے ہیں۔

مصر میں فوج کی جانب سے نامزد وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے سنیچر کو سرکاری ٹی وی چینل الاہرام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک ماہ سے جاری مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو جلد از جلد قانونی طریقے سے ختم کیا جائے گا۔‘

اس سے قبل مصر کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے جمعے کو جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا تاکہ مصری فوج کو ’ممکنہ دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے حمایت حاصل ہو سکے۔

Image caption سڑکوں پر خون کے دھبے نظر آ رہے ہیں

ادھر برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے ان کی دوبارہ بحالی کے لیے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گيا تھا۔

اطلاعات کے مطابق محمد مرسی کے حامی اور مخالفین نے جمعے کی شب لاکھوں کی تعداد میں ملک بھر میں جلوس نکالے۔

مصری میں جاری تشدد پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سنیچر کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیترین ایشٹن نے حالیہ تشدد کو ناقابل برداشت قرار دیا تھا جبکہ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے مصری حکام پر تشدد فوری طور پر ختم کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی مصری حکام نے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور سنہ 2011 کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

مصر کی صورت حال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے مصری فوج سے محمد مرسی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں