مالی میں صدارتی انتخابات کا انعقاد

Image caption صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں ملک کے تین سابق وزراء اعظم، سابق وزیرِ خزانہ اور ایک عورت شامل ہے

مالی میں مہینوں تک چلنے والی سیاسی کشیدگی کے بعد اتوار کو صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں جس کا مقصد ملک میں استحکام لانا ہے۔

صدارتی انتخابات میں 27 امیدوار حصے لے رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی امیدوار انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا تو گیارہ اگست کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہو گی۔

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں ملک کے تین سابق وزراء اعظم، سابق وزیرِ خزانہ اور ایک عورت شامل ہے۔

صدارت کے عہدے کے لیے سب سے آگے رہنے والے امیدوار بوبکر کیتا ہیں جو 1994 سے 2000 تک ملک کے وزیرِاعظم رہے اور جنھوں نے 2001 میں ریلی فار مالی(آر پی ایم) پارٹی بنائی ہے۔

دارالحکومت بماکو میں جمعے کو اپنے اتخابی مہم کے آخری جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بوبکر نے انتخابات کے دن پرامن رہنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ’آئندہ کوئی مالی کا مذاق نہیں اْڑائے گا‘۔

صومیلہ سی کو ان کے بڑے مخالف امیدوار کے طور پر مانا جاتا ہے۔ صومیلہ نے 2003 میں اپنی سیاسی جماعت یونین فار ری پبلک اینڈ ڈموکریسی(یو آر ڈی) بنائی۔

صومیلہ نے 2012 میں ملک کے اقتدار پر قابض ہونے والوں کو سیاسی منظر سے ہٹنے کا کہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک کے ایک اور وزیرِاعظم صومانہ سیکو کو بھی اچھے ووٹ پڑ سکتے ہیں

واضح رہے کہ مالی میں انتخابات اپریل 2012 میں ہونے تھے لیکن اس سے ایک مہینے پہلے بغاوت کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیل گیا تھا۔

اس کےبعد اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کر کے وہاں سخت گیر شریعت کا نظام نافذ کیا تھا جس کے بعد فرانس نے ملک کی مشرق کی طرف باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

مالی کے بعض حصوں کو ابھی تک بحال کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔

انتخابات کے موقع پر سخت سکیورٹی ہو گی تاہم بعض مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا مالی انتخابات کے لیے تیار ہے یا نہیں؟

ملک کے شمال میں کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے اور ان میں سے زیادہ تر افراد ان انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

شمالی علاقے میں عسکریت پسندوں نے مسلمانوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے کا کہا ہے اور پولنگ سٹیشنوں پر حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔

انتخابی عمل کے شفافیت اور غیر جانبداری کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی علاقے کے شہر کدال ابھی تک طوراک باغیوں کے زیرِاثر ہے۔

طوراک باغیوں پر تیسالیت کے علاقے سے گذشتہ ہفتے انتخابی عملے کو اغوا کرنے کا بھی شبہ ہے۔ عملے کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ووٹر شناختی کارڈ دے رہے تھے۔ انتخابی عملے کو بعد میں رہا کیا گیا تھا۔

مالی میں استحکام لانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی طرف سے فرانسیسی اور چاڈی کی فوج ابھی تک تعینات ہے۔

۔

اسی بارے میں