ہسپانیہ: ریل گاڑی کے ڈرائیور کی عدالت میں پیشی

Image caption بدھ کی رات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے

ہسپانیہ کے سینتیاگو کومپوستیلا شہر کے قریب بدھ کو حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کے ڈرائیور عدالت کے سامنے پیش ہونے و الے ہیں۔اس حادثے میں اٹھہترافراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈرائیور فرانسِسکو خوسے گارسون آمو حادثے میں خود بھی زخمی ہوئے تھے اور انہیں حادثات سے متعلقہ جرائم کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اب جج یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ان کے خلاف فردِجرم عائد کیا جائے یا نہیں۔

فرانسِسکو خوسے گارسون پر شبہ ہے کہ وہ موڑ پر ریل کو حدِ رفتار سے زیادہ تیز چلا رہے تھے۔

حادثے کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ریل گاڑی قانونی حد سے دوگنی رفتار پر سفر کر رہی تھی۔ ریل گاڑی کا بلیک باکس تفتیش کرنے والے جج کے پاس ہے۔

فرانسِسکو خوسے گارسون آمو سر میں چوٹ آنے کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، سنیچر کو انھیں سینتیاگو پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔

وہ کسی قسم کے بیان یا سوالات کے جوابات دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

اتوار کو فرانسِسکو خوسے گارسون آمو کی عدالت میں پیشی کے موقع پر جج یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ان کو سرکاری طور پر مشتبہ قرار دیا جائے، ضمانت پر چھوڑ دیا جائے یا بغیر کسی الزام کے رہا کیا جائے۔

اگر جج کو ڈرائیور کے خلاف کافی ثبوت مل جاتے ہیں تو ان پر فردِجرم عائد کر دیا جائے گا اور مقدمے کی سماعت کے لیے تاریخ دی جائے گی۔

ہسپانیہ میں ریل گاڑی کے اس حادثے کے بعد قومی سطح پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ڈرائیور فرانسِسکو کی عمر باون برس ہے اور وہ تیس برس سے ریلوے فرم رینفے میں کام کر رہے ہیں۔ رینفے کے سربراہ ہولیو گومیز پومار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی میں کوئی نقص نہیں تھا۔

اس سے قبل ہسپانیہ کے بادشاہ جون کارلوس نے کہا تھا کہ وہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں ٹرین کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہیں۔

Image caption فرانسِسکو خوسے گارسون آمو سر میں چوٹ آنے کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے

ہسپانیہ کے بادشاہ نے جمعرات کو سینتیاگو کومپوستیلا میں ہسپتال میں زیرِعلاج ٹرین کے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کی تھی۔

بدھ کی رات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم 87 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

حادثے میں ہلاک اور خمی ہونے والے افراد میں کئی ممالک کے شہری شامل تھے۔

ہسپانیہ کے وزیرِاعظم ماریانو رجوائے نے بھی، جن کا تعلق حادثے والے شہر سینتیاگو کومپوستیلا سے ہے، جمعرات کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’سینتیاگو کومپوستیلا کے رہائشی باشندہ ہونے کی حیثیت سے یہ میرے لیے افسوس ناک دن ہے۔‘

اسی بارے میں