شام:حمص کےبیشتر حصے پر سرکاری فوج کا کنٹرول

تاریخی مسجد خالد بن ولید
Image caption حمص میں تاریخی مسجد خالد بن ولید کا اندرونی حصہ

شام میں اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج نے مرکزی شہر حمص کے علاقے خالدیہ کے بیشتر حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حزب اختلاف کے کارکنوں نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب صرف حمص شہر کا قدیم علاقہ اور چند دیگر اضلاع باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے ’دی سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومتی افواج نے خالدیہ کے بیشتر علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس میں ایک تاریخی مسجد خالد بن ولید بھی شامل ہے۔

ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فوج اور حزب اللہ نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خالدیہ کے اہم حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب ان کی توجہ علاقے کے گردو نواح میں باغیوں کے ساتھ لڑائی پر مرکوز ہے۔‘

عرب ٹی وی المیادین پر حمص کے علاقے الخالدیہ کی تصاویر نشر کی گئیں جن میں تباہ شدہ عمارتیں، ملبے کا ڈھیر اور مسجد خالد بن ولید کا اندرونی حصہ دیکھا جا سکتا ہے۔

المیادین کے مطابق حکومتی افواج نے اسی فیصد علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حزب اختلاف کے کارکنوں نے ان اطلاعات کی تصدیق کی اور بتایا کہ فوج نے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سنیچر کو حملہ کیا تھا اور الزام عائد کیا کہ اس میں فوج کے ہمراہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے بھی حصہ لیا۔

خالدیہ کا علاقہ گزشتہ ایک سال سے باغیوں کے کنٹرول میں تھا۔

شام میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں