وکی لیکس کیس، بریڈلی میننگ مجرم قرار

Image caption میننگ کو سزا کے بارے میں سماعت بدھ سے شروع ہو گی

امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے وکی لیکس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والےامریکی فوجی بریڈلی میننگ کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ فوجی عدالت نے البتہ بریڈلی میننگ کے خلاف ’دشمن کی مدد‘ کا الزام نہیں مانا ہے۔

پچیس سالہ بریڈلی میننگ کو دشمن کی مدد کرنے سمیت بائیس الزامات کا سامنا تھا۔

عدالت نے بریڈلی پر چوری اور کمپیوٹر فراڈ سمیت بیس الزامات کو مان لیا ہے۔

بریڈلی میننگ کو لمبے عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ اگر ان کے خلاف’دشمن کی مدد‘ کا الزام مان لیا جاتا تو انہیں ساری زندگی جیل میں گزارنی پڑ سکتی تھی۔

وکی لیکس: میننگ کا کورٹ مارشل

’جنگی رپورٹس اور خفیہ دستاویزات افشا کیں‘

بریڈلی میننگ کی سزا کا تعین بعد میں کیا جائےگا۔ انہیں زیادہ سے زیادہ ایک سو چھتیس سال قید ہو سکتی ہے اور بدھ سے سزا کے بارے میں سماعت شروع ہو گی۔

بریڈلی میننگ نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے دستاویزات وکی لیکس کو فراہم کی تھی اور کا مقصد امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بحث شروع کرانا تھا۔

میننگ پر جاسوسی کے کئی الزامات کے علاوہ ان کو چوری کے پانچ، کمپیوٹر فراڈ کے دو اور فوجی خلاف ورزیوں کے کئی الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

کورٹ مارشل کی کارروائی کی جج کرنل ڈینس لنڈ نے میننگ کے سامنے کیس کا فیصلہ سنایا۔ جج کے مطابق وہ تحریری فیصلہ بعد میں جاری کریں گی۔

سپاہی بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔عراق میں فوجی تجزیہ کار کے طور پر تعینات میننگ کو مئی سال دو ہزار دس میں عراق سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں امریکہ منتقل کرنے سے پہلے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر کئی ہفتوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔

خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

Image caption بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں

ان میں افغانستان اور عراق کی جنگ سے متعلق چار لاکھ ستر ہزار دستاویزات کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کی دو لاکھ پچاس ہزار دستاویز بھی شامل تھیں جن میں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کے واشنگٹن کو بھیجے جانے والے مراسلے شامل تھے۔

میننگ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ دو ہزار سات میں جس اپاچی ہیلی کاپٹر نے بغداد میں بارہ عراقی شہریوں کو ہلاک کیا تھا اس کی ویڈیو بھی انہوں نے وکی لیکس کو فراہم کی تھی۔

رواں سال فروری میں میننگ نے اپنے اوپر عائد دس الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بغاوت کو دبانے کے لیے فوجی حکمت عملی سے خوش نہیں تھے کیونکہ ان کی نظر میں اس حمکتِ عملی میں انسانوں کے رہنے کے ماحول کے محرکات کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں بریڈلے میننگ کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ ان دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا ضمیر کی آواز تھی۔ بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگی جرائم سے پردہ ہٹایا اور خِلیجی ممالک میں عرب سپرنگ کے نام سے یاد کیے جانے والے جمہوریت کے لیے تحریک کو متحرک ہونے میں مدد کی۔

اسی بارے میں