سپین: ٹرین ڈرائیور فون پر بات کر رہا تھا

Image caption ٹرین کے ڈرائیور کو اتوار کے روز عدالت میں پیش کیا گیا

سپین میں ٹرین حادثے کی تحقیقات کرنے والے والے اہلکاروں کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین ڈرائیور فون پر بات کر رہا تھا۔

گلیریا میں تفتیش کاروں نے عدالت کو بتایا کہ حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار 153 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور جس جگہ حادثہ پیش آیا وہاں رفتار کی حد 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

ڈرائیور فرانسسکو ہوزے گارزون حادثے کے وقت ٹرین کمپنی کے اہلکاروں سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا۔

ٹرین حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کاروں نے ٹرین کے بلیک باکس’ڈیٹا ریکارڈر‘ کا جائزہ لیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق حادثے سے پہلے ٹرین کی رفتار 192 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور حادثے سے کچھ لمحے پہلے ہی بریک لگائی گئی تھی۔

سپین ٹرین حادثہ:ڈرائیور پر قتل کا الزام عائد

ریل گاڑی کے ڈرائیور کی عدالت میں پیشی

ہسپانیہ میں ریل گاڑی کا ڈرائیور گرفتار

سپین میں ٹرین کا حادثہ

Image caption ڈرائیور فرانسسکو ہوزے گارزون حادثے میں خود بھی زخمی ہو گئے تھے

تفتیش کاروں کی جانب سے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق’ ٹرین کے پٹری سے اترنے کے چند منٹ پہلے کمپنی کی جانب سے دیے گئے فون پر فیرول جانے والے راستے سے متعلق ہدایات دینے کے لیے کال موصول ہوئی، فون پر ہونے والی گفتگو اور شور کی آوازوں سے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ ڈرائیور نقشہ یا کوئی دستاویز دیکھ رہا تھا‘۔

سنیچر کو ٹرین ہسپانوی شہر سانتیاگو دے کامپوستیلا کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس میں 79 ہلاافراد ک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے پولیس نے سپین میں حادثے کا شکار ہو جانے والی ٹرین کے ڈرائیور کو مشروط طور پر رہا کر دیا تھا۔

ٹرین کے ڈرائیور کو غیر ذمہ دارانہ قتل کے الزامات میں جج کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔

میڈیا کے مطابق ڈرائیور فرانسسکو ہوزے گارزون کو اب بھی فوج داری الزامات کا سامنا ہے۔

سنیچر کے روز ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حادثے کے چند منٹ بعد ڈرائیور کو یہ کہتے سنا تھا کہ وہ بہت تیز جا رہا تھا۔

سانتیاگو کے باشندے ایوارستو اگلیسیاس نے کہا کہ ڈرائیور کہہ رہا تھا کہ اس نے گاڑی کو آہستہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک ’بہت دیر ہو چکی تھی‘۔

اگلیسیاس نے کہا کہ صدمے کا شکار ڈرائیور بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ وہ حادثے کے بعد تباہی کے مناظر دیکھنے کی بجائے مرنا چاہتا ہے۔

یہ سپین کی تاریخ کے بدترین ٹرین حادثوں میں سے ایک تھا۔

اسی بارے میں