دھرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: اخوان المسلمین

Image caption مصر میں تین جولائی کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور پرتشدد مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں عبوری حکومت کی جانب سے دھرنے ختم کرنے کے حکم نامے کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ایک ماہ سے جاری احتجاجی دھرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

ادھر امریکی حکومت نے مصری حکام سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ لوگوں جلوس نکالنے کے حق کا خیال کرے۔

یاد رہے کہ مصر میں فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنوں کو ختم کرایا جائے۔

وزیر اطلاعات دوریا شرف الدن نے ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا تھا جس کے مطابق ’کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

مصر میں مرسی کے بعد نیا دور نئے چیلنج

مصر میں ناکام جمہوری تجربہ

بیان کے مطابق’ قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک پر جاری دھرنے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی اور سڑکوں کی ناکہ بندی اب ناقابل برداشت ہے اور یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون اور آئین کے مطابق دھرنے ختم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے تین اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف پرتشدد مظاہروں کو اکسانے کے الزام پر عدالتی کارروائی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ صدر محمد مرسی کو تین جولائی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا جس کے بعد سے ان کی جماعت اخوان المسلمین کا قاہرہ میں دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سنیچر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم ستر افراد کے ہلاک ہونے کے بعد حکومت نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو تنبیہ دی تھی کہ وہ دھرنے ختم کر دیں ورنہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا،حکومت کے خبردار کرنے کے باوجود دھرنے جاری ہیں۔

اخوان المسلمین کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ معزول صدر کے حامیوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ وہیں رہیں، احتجاجی دھرنے ختم کا فیصلہ ایک ایسے گروہ نے کیا جس نے ریاست پر قبضہ کر رکھا ہے اور لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق پر دھوکہ دینے کی کوشش کی رہے ہیں۔

دریں اثناء افریقی یونین کے ایک وفد نے بدھ کو معزول صدر محمد مرسی سے ملاقات کی ہے اس سے پہلے یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کیتھرین ایسٹن سے ملاقات کی تھی۔ یہ مرسی کی اقتدار سے الگ ہونے کے بعد کسی بھی بیرونی شخصت سے پہلی ملاقات تھی۔

خیال رہے کہ مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی مصری حکام نے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور سنہ 2011 کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

مصر کی صورت حال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے مصری فوج سے محمد مرسی کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں