افغان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات

Image caption اس سے پہلے بھی نیٹو کی فضائی کارروائیوں میں اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں

افغانستان میں نیٹو حکام نے امریکی فضائی حملے میں پانچ افغان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کی دی ہیں۔

یہ افغان پولیس اہلکار بدھ کی رات کو مشرقی صوبے ننگرہار میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں غلطی سے مارے گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک چیک پوسٹ پر افغان سپیشل فورسز نے طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ میں فضائی مدد مانگی تھی اور اس کارروائی کے دوران پانچ افغان اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اس طرح کے واقعات میں حادثاتی طور پر افغان اہلکاروں کی ہلاکت افغان حکومت اور اس کے غیر ملکی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی افواج ایساف کے کرنل ول گرفن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ کارروائی افغان سکیورٹی فورسز اور بین الاقوامی افواج کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کی اور فضائی مدد مانگے کا فیصلہ بھی مشترکہ تھا۔

امریکہ اس کوشش میں ہے کہ افغان حکومت سے بات کی جائے کہ افغانستان سے آئندہ سال بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں کتنی تعداد میں اس کے فوجی موجود رہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیونکہ افغان سکیورٹی فورسز کے پاس قابل ذکر فضائی طاقت موجود نہیں ہے اس لیے پاکستان کی سرحد سے متصل پہاڑی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں بین الاقوامی افواج کی فضائی مدد انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

افغانستان میں اس سے پہلے بھی نیٹو کی فضائی کارروائیوں میں افعان سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات پر افغان حکومت نے متعدد بار احتجاج کیا ہے اور ایک موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے افغان سکیورٹی حکام کو پابند کیا تھا کہ وہ غیر ملکی فضائی مدد مانگنے سے گریز کریں کیونکہ اس میں ہمارے معصوم شہری مارے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں